Apr 23

گلگت بلتستان کے قانون سا ز رہنما : رقص شرر

رقص شرر: گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی وجود میں آیا اور اس کے بعد قدرے تاخیر سے وزیر اعلی کا انتخاب بھی ہوا. بعد ازاں ایک مقامی خاتون کو گورنر بنا کر لوگوں کے جذبات کی لاج رکھی گئی. کابینہ کے اراکین کا انتخاب بھی مکمل ھو چکا ہے اور کچھ ہی دنوں میں محکموں کا اعلان بھی ھو جا یگا. مجوعی طور پردیکھا جایے تو چیزیں درست سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہیں.

اس سارے عمل کے بعد اب ایوان کی سرگرمیاں بھی شروع ھو چکی ہیں اور امید یہ کی جا رہی ہے کھ عوامی نمایندے قومی وسایل کا مثبت استعمال کرتے ہوے ایوان کے قیمتی وقت کو بنیادی انسانی مسایل کے حل ڈ ھونڈ نے اور اہم امور پر قانون سازی کرنے کے لیے بھر پور کو ششِں کریں گے. اس عمل کے دوران یقینا تجربے کی کمی اور قانون سازی کے امور سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ خامیاں بھی سامنے آینگی اور سیکھنے کے کئی موا قعے ملیں گے. مثبت اور سیکھنے والا رویہ اختیار کر کے عوامی نمایندے نہ صرف اس کام میں جلد ہی ماہر ھو جاینگے بلکہ قانون سازی کی نئی جہتیں بھی سامنے لا سکیں گے. گللگت بلتستان کے عوام کی اکثریت صابر اور شآکر محنت کش افراد پر مشتمل ہے اور وہ یقینا اپنے نمایندوں کی حوصلہ افزائی کریں گے بلکہ ان کا بھر پور ساتھ بھی دیں گے.

لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس رہا اور ممبران اسمبلی عوامی مسایل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھا لنے لگے اور ایک دوسرے پر ذاتی پسند و نا پسند اور عناد و عصبیت کی وجہ سے تنقید کرنے لگے تو ایسا کرنا نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ھو گی بلکہ اس سے عوامی توقعات پر بھی جلد ہی اوس پڑے گا اور اس نیئے نظام کی کامیابی مشکوک ھو جائے گی.

اسمبلی کے موجودہ سیشن میں تنقید اور تدبیر کے مابین کشمکش میں اولا ذکر کو کامیابی ملی . یعنی، ممبران اسمبلی پہلے اجلاس میں ہی ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کی کوششوں میں مصروف نظر آیے. کچھ ممبران نے توخالص ذاتی مفاد کے لیے دوسروں کو بین السطور دھمکیاں بھی دیں اور انجام سے لوگوں کو ڈرانے کی سعی لا حاصل بھی کی. بد قسمتی سے کچھ مقامی اخبارات نے ایسے واقعات اور بیانات کو شہ سرخیاں بنا کے بے پر کے اڑانے کی مذموم حرکت بھی کی. ایسا کرنے والوں کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے علاقے کے رہنما خود کو حکمرانی کے لائق ثابت کرنے میں تھوڑا وقت ضرور لیں گے . اور اس دوران اجتماعی صبر کی سخت ضرورت ہے.

ممبران اسمبلی اس بات کو سمجھ لے کہ اسمبلی کا ہر سیشن ان کے قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان لے گا. تدبیر، علم اور برداشت رکھنے والے سپھل ہوں گے اور باقی محض وقت اور وسائل کے ضیاع کا باعث ہوں گے. اس کسوٹی پر کون کتنا اترتا ہے یہ تو صرف وقت ہی بتاے گا

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
preload preload preload