Mar 11

متاثرین دیا مر ڈیم کے مطالبات منظور

سلام آباد(کے ٹو ) وفاقی وزراتی کمیٹی نے دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کے مطالبات کی منظوری دیدی ہے کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت وبلتستان منظور و وفاقی وزیر سید خورشید شاہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ مہدی شاہ چیئرمین واپڈا شکیل درانی سیکرٹری کانا احتشام خان سیکرٹری پانی وبجلی اور چیف سیکرٹری گلگت وبلتستان فتح محمد بابر یعقوب نے شرکت کی وزارتی کمیٹی نے متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 44 ارب روپے معاوضہ کی ادائیگی کی منظوری دی ہے یہ معاوضہ قسط وار ادا کیاجائیگا وزارتی کمیٹی اور دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کی ایکشن کمیٹی کا ایک مشترکہ اجلاس25 فروری 2010ءکو منعقد ہوا تھا اجلاس میں وزارتی کمیٹی اور ایکشن کمیٹی کے درمیان دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کے مطالبات کو منظور کرنے کے لیے اتفاق رائے سے معاہدہ طے پایاتھا جس کے تحت متاثرین کے درج ذیل مطالبات تسلیم کیے گئے تھے متاثرین کو پانچ مرلہ کی بجائے ایک کنال کے پلاٹ دیئے جائیں گے زرعی پلاٹ جوکہ زیادہ سے زیادہ 6 کنال کے ہوں گے اس میں متاثرین اپنی مرضی سے کم رقبہ کے پلاٹ خرید سکیں گے سپیشل کوالیفیکیشن کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم کی روزگار کی تمام سکیموں میں متاثرین کو نظر انداز نہیں کیاجائیگا بلکہ متاثرین کو ترجیح دی جائے گی۔امیدوار کی عدم دستیابی کی صورت میں گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کے امیدواروں کو فوقیت دی جائے گی ہرپن داس کے مقدمہ کو پندرہ روز کے اندر واپس لیا جائیگا جو زمین واپڈا کو پہلے معاہدہ کے تحت بغیر معاوضہ کے دی گئی تھی اب واپڈا اس کا باقاعدہ معاوضہ ادا کرے گااسی طرح دیگر زمین بھی واپڈا معاوضہ دے کر حاصل کرے گا دیامر بھاشا ڈیم کی سو فیصد رائلٹی گلگت بلتستان کو دی جائے گی حدود (باﺅنڈری ) کے تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے گا چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جن چراہ گاہوں کی اراضی جو ڈیم میں زیر آب آرہی ہے کا پچاس فیصد رقبہ حکومت کو بغیر معاوضہ کے دیا گیا تھا اب حکومت مالکان زمین کو یہ زمین واپس کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپے کے حساب سے ریٹ مقرر کرے گی۔ایک مصالحتی کمیٹی زیر سربراہی ڈی سی دیامر تشکیل دی جائے گی جس میں واپڈا اورمتاثرین کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل ہونگا اس کمیٹی کے درج ذیل فرائض ہونگے اگر داس کے سروے میں غلطی ہوگئی ہو تو اس کی درستگی اور اگر دوران لینڈ ریکویزیشن کوئی تعمیر عارضی طور پر ضروری ہواس کی اجازت دینے کا اصول بھی طے ہوگیا کہ صرف معاوضہ دینے کی صورت میں ہی زمین واپڈا کے حوالے کی جائےگی اور مزید یہ کہ اگر معاوضہ میں تاخیر ہوتو اس میں مناسب ہرجانہ بھی شامل کیاجائے گا تھک داس کے سلسلے میں 12/08/2009ءکے فیصلے پر عملدرآمد کیاجائے گا ہرپن داس کے مقدموں کی واپسی تھور اور دیگر زمین جو فوری طورپر واپڈا کو چاہیے کے ساتھ منسلک کیاجائے گا ہرپن داس وغیرہ میں جو سرکاری پروجیکٹس تعمیر ہواس کا معاوضہ حکومت گلگت بلتستان ادا کرے گی اور واپڈا کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی لینڈریکویزیشن پی سی ون کے مطابق ہوگی۔ چلاس میں بنجر زمین کی قیمت 2,50,000 روپے بغیر کاشت زمین کی قیمت 4,00,000 اور زیرکاشت زمین کی قیمت 11,00,000 فی کنال ہوگی۔ تھور میں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپےبغیر کاشت زمین کی قیمت 2,59,000 روپے زیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000 ہوڈرمیں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپےبغیر کاشت زمین کی قیمت 2,07,000روپےزیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000روپے کھنبر میں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپے بغیر کاشت زمین کی قیمت 2,07,000روپے زیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000روپےتھک میں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپے بغیر کاشت زمین کی قیمت 2,07,000روپےزیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000روپےگونٹر میں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپےبغیر کاشت زمین کی قیمت 2,24,940روپےزیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000روپےگیس تھنگ نالہ میں بنجر زمین کی قیمت 1,00,000روپے بغیر کاشت زمین کی قیمت 2,07,000روپے زیر کاشت زمین کی قیمت 8,00,000 روپے اور کھنبری میں بنجرزمین کی قیمت 1,00,000 روپے بغیر کاشت زمین کی قیمت 2,59,000روپےزیرکاشت زمین کی قیمت 8,00,000روپے فی کنال ہوگی

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
preload preload preload