ہنزہ (آج ٹی وی) وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عطاء آباد جھیل کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کارآمد ثابت
ہوں گے،لوگوں سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کریں گے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اہلیان ہنزہ سے خطاب کررہے ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے لوگوں سے شہادتوں پر تعزیت کی ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خرابی موسم کے باعث وہ یہاں تاخیر سے پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ جھیل کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کارآمد ثابت ہوں گے۔ اس موقعے پر انہوں نے متاثرہ مقامات کی جلد بحالی کیلئے بھی اقدامات کا اعلان کیا۔ پہلے وزیر اعظم نے عطاء آباد جھیل کا معائنہ کیا جہاں ان کو صورتحال کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی ۔
ادھرعطاء آباد جھیل کے متاثرین میں بیت المال سے لنگر کی تقسیم شروع کر دی گئی ہے، مختلف کیمپوں میں میں مقیم چار ہزار افراد کو کھانے پینے کی چیزیں فراہم کی جا رہی ہیں، وزیر اعظم نے بھی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ عطاء آباد جھیل ٹوٹنے اور شاہراہ قراقرم کو نقصان پہنچنے کی صورت میں غذر چترال روڈ متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جھیل کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔عطاء آباد جھیل کی سطح تین سو چھیاسٹھ فٹ تک پہنچ گئی ہے اور اس میں روزانہ ایک میٹر اضافہ ہورہا ہے۔ جھیل کے ارد گرد پہاڑوں سے اب بھی تودے گررہے ہیں جس سے جھیل کی سطح بڑھ رہی ہے۔
گو کہ ہنزہ، گلگت اور دیگر علاقوں میں کئی روز سے جاری بارش کا سلسلہ رک گیااور موسم بہتر ہونے کے بعد عطاء آباد میں امدادی سرگرمیوں میں بھی تیزی آگئی ہے،اسکے علاوہ امدادی کارروائیوں کے لئے ہیلی کاپٹر سروس کے ساتھ ساتھ عطاء آباد جھیل پر تاجروں کے لئے کشتی سروس بھی بحال ہوچکی ہے لیکن گلیشیئر پگھلنے کا عمل بھی تیز ہوگیا جس سے عطاء آباد جھیل کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے۔جھیل سے پانی کا رساؤ جاری ہے اور روزانہ دس کیوسک پانی خارج ہورہا ہے۔انتظامیہ نے میڈیا کی ٹیموں کو جھیل اور اس کے اطراف کا فضائی دورہ کرایا اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عطاء آباد جھیل ٹوٹنے اور شاہراہ قراقرم کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ممکنہ طور پر غذر چترال روڈ کو متبادل شاہراہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا لیکن رانی آف ہنزہ اس جھیل سے پیداہونے والی صورتحال سے مایوس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاخیر کی۔رانی آف ہنزہ کا خدشہ ہے کہ جھیل نے سمندر کی شکل اختیار کرلی ہے اور اس سے بڑی تباہی آسکتی ہے۔
ان کے صاحبزادے نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عطاء آباد جھیل سے شاہراہ قراقرم بہت متاثر ہوئی ہے جس سے سیاحت اور پاک چین تجارت تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ عطاء آباد جھیل سے پانی کے اخراج کے لئے اسپل وے بائیس مئی کو کھولا جاسکتا ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہ سکتا کہ ممکنہ خطرہ ٹل جائے گا یا نہیں۔

thank u P M sahub app nay b sahi looli pop di hay hunza nagar kay awam koo,app say pehlay b kafi loogoon nay is tarah kay waday kiya thay lakin ag tuk wafa nahi hovay hain,iss sarai tabahi may may app ki govt b shamil hay jis nay burwat iqdamat na kurnay ki waja say aj hum azab may mubtila hojaye hain,itna zulum na karoo ki humain akhar kuch aur soochnay pur mujboor hojain,ziyadatian had say badrahi hain,agar ya silsila raha too aik aur baloochistan paida hoja,ya phir muqbooza kashmir