May 13

ہنزہ‘ عطاءآباد (اجلال حسین +سیف الرحمن سیف ایجنسیاں) عطاءآباد جھیل میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ایک اور گاﺅں گلمت بھی جزیرہ بن گیا جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومتی انتظامات نہ ہونے سے وہ متاثرہ علاقوں میں واپس جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ جھیل ٹوٹنے سے 36 کے قریب دیہات متاثر ہوسکتے ہیں تاہم اس سے تربیلا ڈیم کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز گوجال کی تحصیل ہیڈکوارٹر گلمت میں شاہراہ قراقرم کا بیشتر حصہ زیر آب آنے سے گلمت کا گوجال اور دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا اور گلمت ایک جزیرے میں تبدیل ہوگیا متاثرہ علاقے کے اڑھائی ہزار سے زائد افراد محصور ہوکر رہ گئے ہیں دوسری طرف عطاءآباد جھیل کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے اور آئندہ چند روز میں جھیل سے پانی کے اخراج کے دوران سیلاب سے ہونے والے ممکنہ نقصان کا اعلیٰ ترین سطح پر جائزہ لیا جارہاہے گلگت اور ہنزہ کے مختلف مقامات پر امدادی مراکز اور کنٹرول روم قائم کر دیئے گئے ہیں۔ ادھر مصنوعی جھیل سے متاثر ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ چار ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باجود اب تک کسی قسم کے بہتر اقدامات نہیں کئے گئے اور حکومت کا یہی رویہ رہا تو وہ عارضی طور پر قائم کئے گئے کیمپ کو چھوڑ کر اپنے تباہ شدہ علاقوں میں جانے پر مجبور ہوجائیںگے۔ ادھر عطا آباد میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے نے برفانی پانی کے سامنے رکاوٹ بن کر تین سو فٹ گہری اور تیرہ فٹ لمبی جھیل کی شکل اختیار کرلی ہے۔ حادثاتی طور پر بننے والی جھیل میں اندازے کے مطابق اب تک صفر عشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ پانی جمع ہوچکا ہے۔ جھیل سے پانی کا اخراج روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے چار ماہ سے جاری کوششیں اب تک ناکام ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسم گرما میں برفانی پانی کے بہاﺅمیں اضافے سے جون تک جھیل میں آنے والا پانی کسی رکاوٹ کے بغیر اوور فلو ہوتا رہے گا۔ عطا آباد جھیل میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گوجال کا ایک اور گاﺅں گلمت بھی جزیرہ بن گیا دوسری جانب ہنزہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں ٹرانسپورٹ یونین ہنزہ اور بزنس ایسوسی ایشن علی آباد نے سانحہ کیخلاف ہڑتال اور مظاہرہ کیا گذشتہ صبح گوجال کے تحصیل ہیڈکوارٹر گلمت میں شاہراہ قراقرم کا بیشتر حصہ زیر آب آنے سے گلمت کا گوجال کے دیگر علاقوں سے رابطہ ختم ہوگیا اور یہ گاﺅں ایک جزیرے میں تبدیل ہوگیا متاثرہ علاقے کے ڈھائی ہزار سے زائد افراد محصور ہوگئے ہیں دوسری جانب عطا آباد جھیل کی سطح مسلسل بلند ہوکر323 فٹ سے زائد ہوچکی ہے اور جھیل21 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے آئندہ چند روز میں جھیل سے پانی کے اخراج کے دوران سیلاب آنے کا خدشہ ہے جس سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا اعلیٰ ترین سطح پر جائزہ لیا جارہاہے ۔ دوسری جانب ہنزہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر علی آباد میں ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ہنزہ اور بزنس ایسوسی ایشن علی آباد کی کال پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر علی آباد میں مکمل شٹرڈاﺅن ہڑتال کی جارہی ہے مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا اس دوران علی آباد میں شاہراہ قراقرم کے مقام پر مظاہرین نے دھرنا دیا۔ہنزہ عطا آباد جھیل سے پانی کے اخراج کے ساتھ ہی یکدم جھیل ٹوٹ جانے کی صورت میں آنے والے سیلاب سے دریائے گلگت دنیور کے مقام پر10سے12 گھنٹے تک بلاک ہونے کاخدشہ ہے دریائے گلگت بلاک ہونے سے گلگت بلتستان اسمبلی ہال  وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گلگت پریس کلب اور اہم عمارتوں سمیت2 ہسپتال بری طرح متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے گلگت شہر کے نشیبی علاقوں میں آباد لوگوں میں شدید خوف وہراس ہے کئی نشیبی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی بھی شروع کردی ہے دریائے گلگت بند ہونے سے ہارون آباد ڈومیال عیدگاہ کالونی امپھری بسین کھاری اور سکارکوئی گاﺅں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے دریائے گلگت بلاک ہونے کے حوالے سے جاری خبروں کے بعد ریورویوروڈ پر واقع ہوٹلز پر مسافروں نے قیام کرنا چھوڑ دیا جبکہ سول ہسپتال کشروٹ اور آئی ہسپتال میں مریضوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی سامنے آئی ہے صحافیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت پریس کلب کو فوری طورپر کسی دوسری عمارت میں منتقل کیاجائے تاکہ ممکنہ سیلاب کے حوالے سے خبروں کے حصول او رترسیل کو ممکن بنایا جاسکے۔گلمت کا زمینی راستہ بالائی ہنزہ سے کٹ چکاہے آئند دو روز کے اندر شاہراہ قراقرم پر واقع گلمت مارکیٹ کی تقریباً110 دکانیڈ جھیل کے زد میں آنے کا خدشہ ہے دکانداروں اپنا سامان اٹھا کر محفوظ کرلیا ہے ششکٹ اور آئین آباد کے اب تک 105گھرانے زیر آب آچکے ہیں اب تک کی صورتحال کے مطابق تقریباً18 کلومیٹر پر شاہراہ قراقرم بھی کٹ گیا ہے ششکٹ اور گلمت کے متاثرین نے اخبارنویسوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے پھلداردرخت جس سے ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور گھریلو اخراجات پورا کرتے تھے مکمل طورپر اکھڑ گئے ہیں اس کے لیے حکومت جلدازجلد امداد دے تاکہ بچوں کا مستقبل بھی تاریک نہ ہو دوسری طرف گوجال کے تینوں گاﺅں کے لیے بجلی کی ترسیل بھی بند ہوگئی ہے

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

One Response to “گلمت جزیرہ بن گیا :ہزاروں افراد محصور”

  1. muhammad tariq says:

    hum es hadesay per entihae gham zada hay awr ap logo ky gham main barabar k sharik he.ye allah taala ke taraf say hum sab per aik emtihan hay alla taala say duaa hay keh hamay es emtihan main sabit qadme ata farmaye(amin).

    Muhammad Tariq
    Malakanad Malakand Agency
    Khyber Pukhtun Khwah

Leave a Reply

preload preload preload