May 27

گلگت(کے ٹو)فورس کمانڈرگلگت بلتستان میجرجنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عطاآباد جھیل سے پانی کااخراج آبی گزرگاہ سے کسی بھی وقت ممکن ہے تاہم اگلے 24سے 48گھنٹے زیادہ اہم ہیں کیونکہ جھیل کاپانی سیل وے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے بدھ کے روزاپنے دفترمیںعطاآباد جھیل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق صحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئے میجرجنرل قمرجاوید باجوہ نے بتایا کہ حکومت نے جھیل کے ٹوٹنے کے ممکنہ خدشے کے پیش نظرنشیبی علاقوں کے لوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کردیا ہے اورکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام انتظامات مکمل کررکھے ہیں تاکہ لوگوں کے جان ومال کاتحفظ یقینی بنایاجاسکے انہوں نے بتایا کہ عطاآباد جھیل کی صورتحال کومانیٹرکرنے کے لئے جھیل کے بند کے قریب کلوزسرکٹ کیمرے نصب کردئیے گئے ہیں جنہیں آپٹک فائبرکے ذریعے فورس کمانڈگلگت میںقائم کئے گئے کنٹرول روم کے ساتھ منسلک کردیاگیا ہے اورآرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی جی ایچ کیوسے بھی براہ راست نگرانی کررہے ہیں فورس کمانڈرنے کہا کہ جھیل کے یکدم ٹوٹنے کی صورت میں شاہراہ قراقرم پرچاربڑے پل سیلابی ریلے کی زد میںآسکتے ہیں جن میں سے ایک پل کومحفوظ کرلیاگیا ہے جبکہ کسی ہنگامی صورت میں لوگوں کی آمدورفت کویقینی بنانے کے لئے ایک بڑا پل بھی ہنزہ پہنچادیاگیا ہے جو50ٹن وزن برداشت کرسکتا ہے ٹرک بھی اس پل سے گزارے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ آرمی جنرل ہیڈکوارٹرزنے 400فٹ لمباپل بھی تیاررکھاہوا ہے میجرجنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ اگرآبی گزرگاہ نہ بنائی جاتی تونقصانات میںپچاس فیصد اضافہ ہوسکتا تھا آبی گزرگاہ بنانے کے بعد نقصانات کاخدشہ 50فیصد کم ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیواوکے انجینئرز اگر24میٹرگہری سیل وے تعمیرنہ کرتے توزیادہ نقصانات کاخدشہ تھا انہوں نے بتایا کہ جھیل کے بندپرکوئی دھماکہ خیزمواداس لئے استعمال نہیںکیاگیا کہ نیس پاک،عالمی بنک اوردیگرمعروف اداروں کے ماہرین نے تجویزدی تھی کہ دھماکہ خیزمواد کے استعمال سے مزیدلینڈسلائیڈنگ ہوگی انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لئے جنرل کیانی نے چارہیلی کاپٹرزفراہم کئے ہیں جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ہیلی کاپٹرزبھی بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں اب تک ایک ہزارکے قریب ہیلی اڑانوں کے ذریعے ہزاروں لوگوں اورہزاروں ٹن خوراک متاثرہ علاقوں میںپہنچائی جاچکی ہے جبکہ خیمہ بستیوں میں متاثرین کوتمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیںمیجرجنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ متاثرین کوطبی سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں جبکہ پاک فوج کی میڈیکل کورکی ٹیموں کوبھی تیارکیاگیا ہے تاکہ کسی ہنگامی حالت میںان کی خدمات لی جاسکیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین روزسے ہیلی اڑانوں کے ذریعے بالائی ہنزہ کے متاثرین کوخوراک اوردیگرضروری سامان فراہم کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چین کی حکومت سے بھی بات کرلی ہے وہاں سے بھی کسی چیزکی ضرورت ہنگامی حالت کے دوران پڑی تولائیں گے انہوں نے بتایا کہ متاثرین کے لئے قائم کی گئی خیمہ بستیوں میںسہولتوں کی فراہمی کے لئے پاک فوج کی ایک بٹالین تعینات کردی گئی ہے جوانتظامیہ کی مددکررہی ہے میجرجنرل قمرجاوید باجوہ کاکہناتھا کہ عوام کے ذہنوں میںجھیل سے پانی کے اخراج کے حوالے سے ابہام پایاجاتا ہے جسے میڈیا کے ذریعے ہی دورکیاجاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہ بنانے کاکام ایف ڈبلیواونے مفت کیا ہے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی رقم نہیں دی گئی ہے میجرجنرل قمرجاوید باجوہ نے بتایا کہ جھیل سے متاثر ہونے والے بالائی ہنزہ کے علاقوں کاسروے جاری ہے پانی کے اخراج کے بعد صورتحال کاجائزہ لے کرنقصانات کاتخمینہ لگائیں گے اورمتاثرین کے نقصانات کاازالہ کیاجائے گا انہوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقوں کے سروے کے لئے منگلاڈیم ریزنگ والا طریقہ کاراپنایاجارہا ہے تاکہ کوئی متاثرہ خاندان امداد سے محروم نہ رہ سکے آبی گزرگاہ کے راستے پانی کے اخراج کے بعد پانی 4سے 6گھنٹوں میںگلگت پہنچ جائے گا شاہراہ قراقرم کواگرسیلابی ریلے نے نقصان پہنچایاتواسے فوری بحال کیاجائے گا انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہ بنانے کے کام سے شاہراہ قراقرم کی توسیع کاکام کرنے والی کمپنی سی آربی سی نے معذرت کی تھی اورچائینز کمپنی اس کام کے لئے آتی بھی توچارسے 6ماہ لگ سکتے تھے اورانہوں نے بھی وہی کام کرنا تھا جوایف ڈبلیواونے کیاہے

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload