گلگت(کے ٹو) صوبائی وزیر مالیات محمد علی اختر نے کہا ہے کہ بہت جلد گلگت بلتستان کو 2ارب 10کروڑ روپے کی ریلیز مل جائے گی جس سے یہاں موجود مالی بحران ختم ہو جائے گا اور ترقیاتی سکیموں کا رکا ہوا تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو جائے گا انہوں نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت علاقے میں مالی بحران ہے اور بجٹ میں کٹ لگنے کی وجہ سے بہت سارے مسائل بھی درپیش ہیں مگر موجودہ حکومت تعمیروترقی اور مسائل کو حل کرنے کیلئے مستعدی سے کام کررہی ہے اور ریلیز ملتے ہی مالی مسائل کا خاتمہ ہو گا محمد علی اختر نے کہا کہ بہت سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے وزیر مالیات کا قلمدان سنبھالا ہے انشاءاللہ اس دفعہ جو بجٹ پیش کیا جائے گا وہ عوام دوست ہو گا کسی قسم کے ناجائز ٹیکس لاگو نہیں کئے جائیں گے انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بہت سارے مسائل کا سامنا ہے ان مسائل سے نبردآزما ہونے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کیلئے کچھ عرصہ درکار ہے انہوں نے کہا کہ جنگلات منرلیز سمیت دیگر وسائل کے حوالے سے ایک جامع اور مربوط پالیسی مرتب کی جارہی ہے جو کہ اگلے 6ماہ تک مکمل ہو گی جس کی تکمیل کے بعد ملکی وغیر ملکی سرمایہ داروں کو گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی تا کہ یہاں پر پرائیویٹ سیکٹر بھی مضبوط وفعال ہو سکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے ذرائع دستیاب ہو سکیں جبکہ سکردو میں سرمایہ کاری فیسٹیول کا انعقاد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے صوبائی وزیر مالیات محمد علی اختر نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عطا آباد ہنزہ میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جھیل بن چکی ہے جس کے ٹوٹنے کے خدشے کی وجہ سے عوام میں خوف بھی پایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بھی تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو سہولیات فراہم کر رہی ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر مختلف علاقوں میں خوراک اور ادویات سمیت دیگر ضروری سامان سٹاک کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ جھیل کے ٹوٹنے کے امکانات بہت کم ہیں لیکن قدرت کے سامنے انسان اندازے کیسے لگا سکتا ہے اس لئے عوام کو ڈر وخوف میں مبتلا ہونے کی بجائے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آفات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہئے تا کہ ایمر جنسی حالات میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے ہمت سے مسئلے کا سامنا کیا جا سکے
