May 25

گلگت (کے ٹو) وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے کہاہے کہ سانحہ عطا آباد کے متاثرینکے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے ہماری طرف سے ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوئی ہے اوراس حوالے سے جو بھی تاخیر ہوئی ہے وہاں ہنزہ کے منتخب نمائندوں کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی جانب سے ہوئی ہے۔انہوں نے کے پی این کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ 4جنوری 2010ءکو سانحہ عطا آباد کے فوراً بعد میں خود متاثرین کے پاس گیا اور انہیں پیشکش کہ تمام متاثرین کو حکومت گلگت بلتستان متبادل جگہ پر گھر بنا کر انہیں آباد کرے گی جس پر متاثرین نے مجھے کہا کہ ہمیں گھر نہیں نقد میں ادائیگی کردیں جس پر میں نے متاثرین کی تجویز کو فوراً قبول کیا اور ہنزہ سے منتخب رکن اسمبلی وزیر بیگ جو قانون ساز اسمبلی کے سپیکر بھی ہیں اور گوجال سے ٹیکنوکریٹ نشست پر منتخب ہونے والے رکن اسمبلی مطابعت شاہ کی سربراہی میں متاثرین کے نمائندوں اور علاقے کے عمائدین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے سانحہ عطا آباد کے متاثرین اور ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر مجھے رپورٹ پیش کریں تا کہ ہم متاثرین کو ان کے نقصانات کے حساب سے معاوضوں کی نقد ادائیگی کرسکیں مگر مجھے ابھی تک کمیٹی کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین کی فہرست اور ان کے نقصانات کے تخمینہ کے بغیر ادائیگی کیسے کر سکتے ہیں انہوں نے بتایا کہ سانحہ عطا آباد کے متاثرین کے نقصانات کا تعین کرنے اور معاضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں نہ تو گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے کوئی تاخیر ہوئی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی تاخیر ہوئی ہے اگر تاخیر ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار وہاں کے منتخب نمائندے اور کمیٹی کے ممبران ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صرف سانحہ عطا آباد کے متاثرین کیلئے 80کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں متاثرین کے نقصانات کی رپورٹ ملتے ہی انہیں ادائیگی کر دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ ابھی آئین آباد شکشٹ، گلمت اور حسینی کے متاثرین کو بھی ان نقصانات کا معاوضہ دینا ہے اوریہ معاوضے دو ارب سے کم نہیں ہونگے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے خود بھی متاثر ہوا ہوں اورتمام متاثرین کو ان کی خواہش کے مطابق آباد کرنے تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سانحہ عطا آباد اورجھیل کی وجہ سے عطا آباد ،آئین آباد ، ششکٹ ، گلمت گوجال اور حسینی میں جن لوگوں کے گھر پانی میں ڈوبے ہیں وہ حقیقی معنوں میں متاثر ہیں جبکہ ہنزہ ، نگر ، نومل ،جوتل اوردنیور میں جن لوگوں کو نشیبی علاقوں سے خیموں میں منتقل کیا گیاہے یہ لوگ متاثرین نہیں ہیں صرف حفاظتی نکتہ نظر سے احتیاطاً خیموںمیں منتقل کیا گیا ہے جھیل سے پانی کے اخراج بعد معلوم ہوگا کہ کون متاثر ہوا ہے اورکون نہیں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ ہمارا اجتماعی المیہ ہے کہ کسی بھی سیلاب یاسانحہ کے بعد متاثرین حکومت کو حقیقی نقصان بتانے کی بجائے یہ کوشش کرتے ہیں کہ بڑھا چڑھا کر نقصان پیش کیاجائے تاکہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے کوئی کہتا ہے کہ میری پانچ گائے تھے رپورٹ میں صرف ایک لکھی گئی ہے کوئی کہتا ہے کہ میری50کنال زمین تباہ ہوئی ہے جبکہ رپورٹ میں صرف10دس کنال لکھی گئی ہے اس صورتحال کی وجہ سے متاثرین کے نقصانات کاتخمینہ لگانے میں دشواری پیش آرہی ہے انہوںنے بتایا کہ اس صورتحال کے پیش نظر ہنزہ سے گلگت تک دریائے کے دونوں طرف موجود آبادیوں کی مکمل سروے کیاگیاہے اورپٹواریوں کی مدد سے تمام ڈیٹا مرتب کیا گیا تاکہ بعد میں کوئی مشکل صورتحال پیش نہ آئے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس وقت جھیل کی نچلی سطح سے پانچ مختلف جگہوں سے پانی خارج ہورہا ہے اوروہاں سے نکلنے والی پانی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملبے میں بڑے بڑے پتھر ہیں جس کی وجہ سے ماہرین اورہم یہ اندازہ لگارہے ہیں کہ جھیل کے یکدم ٹوٹنے کاکوئی خطرہ نہیں ہے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگرسپل وے سے نارمل طریقے سے جھیل کاپانی کااخراج ہوجائے توکسی بھی قسم کی کوئی خطرہ نہیں ہوگا اورہم پرامید ہیں کہ انشا ا للہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جھیل سے کوئی زیادہ نقصان نہیںہوگا پھر بھی ہم نے تمام تراحتیاطی تدابیر مکمل کی ہیں

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload