May 26

ہنزہ (بی بی سی) سوست ڈرائی پورٹ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شاہراۃ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے مئی کے مہینے میں پچاس فیصد سے زائد نقصان ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں اٹھائیس کمرشل کنٹینر چین سے پاکستان آئے تھے لیکن اس سال مئی کے مہینے میں ابھی تک صرف دس کمرشل کنٹینر آئے ہیں۔

ِاس کے علاوہ اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں لگ بھگ تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں آمدنی ہوئی تھی جبکہ اس سال ابھی تک مئی کے مہینے میں محض سڑسٹھ لاکھ روپے آمدنی ہوئی ہے۔

اسی طرح سیلز ٹیکس کی مد میں پچھلے سال مئی میں ننانوے ہزار ساٹھ لاکھ روپوں سے زائد آمدنی ہوئی جبکہ رواں سال مئی کے مہینے میں صرف تینتالیس لاکھ ستاسی ہزار روپے آمدنی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اسی طرح انکم ٹیکس کی مد میں پچھلے سال اٹھائیس لاکھ اکیس ہزار کی آمدنی ہوئی لیکن اس سال صرف تیرہ لاکھ بانوے ہزار کی آمدنی ہوئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس کمی کی سب سے بڑی وجہ جھیل کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان واحد زمینی راستہ قراقرم ہائی وے کا بند ہونا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے مواصلات ارباب جہانگیر نے دس دن قبل عطا آباد جھیل کے دورے پر بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شاہراہ قراقرم کا بائیس کلومیٹر کا حصہ زیر آب آ چکا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کو دوبارہ تعمیر کیا جاسکے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شاہراہ کے لیے متبادل جگہ کا تعین کرنے کے لیے سروے شروع کردیا گیا ہے۔

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

One Response to “قراقرم ہائی وے بند، تجارت متاثر”

  1. shah says:

    My brothers and sisters this is really a hard time for all of us. . . stop blame game and criticing each other,. . . .join hands to overcome this situation…….. think wisel. . . act bravely. ……speak humbly. .. . Inshallah Allah hamara madad karey ga. .. Alllah help those who help themselves

Leave a Reply

preload preload preload