کراچی (عزیز عیسٰی خان) قراقرم نیشنل موومنٹ سندھ نے ایک اجتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب کے سامنے کیا.اجتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کے این ایم سندھ کے صدررحمت میرنے کہا گلگت بلستان گوکہ 62 سالہ تاریخ میں ایک غیراہم خطہ رہا ہے مگراس کی اہمیت ڈوگروہ راج اور فرنگی سرمایہ کاری کے دورسے اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے.گلگت بلستان تمام ترقدرتی وسائل سے مالا مال ہے. سب سے جواہم ہے ان میں قمیتی پھترکے خزانے پانی اور اس کی جغرافیائی اہمیت ہے. پانی پاکستان کے تقریبا %70 فیصد ضرورت کوپورا کرتاہے. 4جنوری کودریائے ہنزہ پرعطاآباد گاؤں کے منہدم ہونے کے بعد مقامی حکومت اوروفاقی حکومت اخبارات میں بیان بازی کے سوا کوئی کام نظر نہیں آتاہے. انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں عطاآباد منہدم ہونے سے گئ سال پہلے ایک مقامی این جی او نے سروے رپورٹ مقامی حکومت کے سکرٹیری داخلہ کودی تھی لیکن اس پرکسی نے توجہ نہیںدیا.بالاآخر4جنوری 2010 کو یہ سانحہ پیش آیا. انہوں نے مزید کہاسانحہ کے بعد حکومتی مشنری نے گاؤں والوں کی مدد نہیں کی مگرمقامی لوگوں مقامی کمیونٹیوں، ریڈکریسنٹ، پاکستان ریڈ کراس چائنا، فوکس ہومینٹرین اورمقامی والنٹرزاپنی مدد آپ کے تحت آج تک کام کررہے ہیں.
کےاین ایم سندھ کےجنرل سکریٹری کریم حسین نے کہا کہ یہ سانحہ عطاآباد کے بعد پورےگلگت بلتستان کے لوگوں میں کہرام مچ گیاہےاورلوگوں نےاحتجاج کاراستہ اختیار کیاہےجس سےپاکستانی میڈیا حرکت میں آگئ ہے.کے این ایم سندھ کے سابق صدر محمدیوسف نےکہا کہ ہنزہ میں لوگوں کے حکومت کے خلاف اتہائی تلخ لہجہ استمعال کرنےاورچائنا ہجرت کرنے کے اعلان کےبعدحکومتی عملدارن اور ادارےحرکت میں آچکےہیں.
کےاین ایم سندھ کےنائب صدرگلشیرخان نے مقامی اور صوبائی حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ گلگت بلتستان میں سے کرپشن کوختم کرےاور گلگت بلتستان میںوفاق کی طرف سے بنائی گئ صوبائی حکومت غیرقانونی اورغیرائینی ہےاسے ختم کرکےکشمیرکی طرزکی مقامی حکوت قائم کی جانی چائے.
اجتجاجی مظآہرین سے معروف سماجی کارکن اورماہرفلکیات آغابہشتی، احمد خان شیدائی، کامریڈ خوش جان، محمدعارف اورکے ایس او کے صدرشیرکریم ہنزائی نے بھی خطاب کیا
