May 29

ہنزہ (بی بی سی) وادی ہنزہ کے علاقے عطا آباد میں انتظامیہ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی جھیل پر بنائے گئے سپل وے سے پانی کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث جھیل کے مصنوعی بند کے کٹاؤ میں تیزی آئی ہے۔ہنزہ کی انتظامیہ کے مطابق سنیچر کو جھیل میں پانی کی سطح میں ایک انچ فی گھنٹہ اضافہ ہو رہا ہے اور جھیل پر بنائے گئے سپل وے سے بیس کیوسک فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔
اس سے پہلے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’فوکس پاکستان‘ کے اہلکار لعل خان کے مطابق سنیچر کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے ابتدائی طور پر سپل وے میں پانچ کیوسک فی سکینڈ کی رفتار سے پانی آنا شروع ہوا تھا۔
ہنزہ کی انتظامیہ کے مطابق جھیل کے سپل وے سے پانی کے اخراج میں اضافے کی وجہ سے جھیل کے مصنوعی بند کے کٹاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق جھیل کے بند سے پہلے چھ جگہوں سے ہونے والا رساؤ اب دس جگہوں سے ہو رہا ہے۔
سپل وے میں پانی کی آمد کے ساتھ ہی دریائے ہنزہ کے بہاؤ کی موافق سمت کی آبادیاں خالی کروانے کے لیے مساجد میں اعلانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے سربراہ جنرل (ر) ندیم احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر سپل وے میں دو سے تین سو کیوسک فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی آئے گا جبکہ اس وقت جھیل میں پانی کی آمد کی رفتار تین ہزار کیوسک فی سکینڈ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والے بند پر ابتداء میں دباؤ زیادہ نہیں ہو گا اور بند پر دباؤ ڈالنے کے لیے جھیل کی سطح میں مزید تین سے چار فٹ اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی کہ جھیل کی سطح میں یہ اضافہ کب تک ہوگا تاہم صاف موسم میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہونے سے پانی کی آمد میں اضافہ ممکن ہے۔
جنرل (ر) ندیم کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی نازک ہیں اور بند پر پانی کا انتہائی دباؤ پڑنے کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ پانی کے اخراج کی رفتار اور صورت کیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بند ریت اور پتھروں پر مشتمل ہے اور جہاں ریت پانی کے ساتھ بہہ جائے گی وہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پتھر پانی کی رفتار کو کس قدر متاثر کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ادھر ہنزہ نگر کی انتظامیہ نے عطا آباد جھیل سے پانی کی نکاسی کے عمل کے آغاز اور ممکنہ سیلابی ریلے کے پیش نظر علاقے میں ہائی الرٹ کر رکھا ہے جبکہ گلگت بلتستان حکومت نے پہلے ہی جمعرات کی شام سےگلگت سے ہنزہ نگر کے علاقے کریم آباد تک شاہراہ قراقرم کو معمول کی ٹریفک کے لیے تا حکم ثانی بند کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس چار جنوری کو ہنزہ کے گاؤں عطا آباد میں وسیع پیمانے پر زمین سرکنے کے باعث مٹی اور پہاڑی تودے دریائے ہنزہ میں آ گرے تھے جس کے نتیجے میں دریا کا بہاؤ رک گیا تھا اور پانی ایک جھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا اور اب اس جھیل سے پانی کی نکاسی شروع ہوگئی ہے۔

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload