عطا آباد(جنگ) سانحہ عطاآباد کے بعد بننے والی جھیل اور اسپل وے کا درمیانی فاصلہ آٹھ فٹ رہ گیا ہے۔جبکہ ممکنہ سیلاب کے خطرے
کے پیش نظر شاہراہ قراقرم کے ذریعے گلگت بلتستان میں سامان کی نقل و حمل کرنے والے ٹرانسپورٹ مالکان نے اپنا کام بند کردیا ہے۔سانحہ عطاآباد کے بعد بننے والی جھیل اور اسپل وے کے درمیان اب صرف آٹھ فٹ کا فاصلہ رہ گیا ہے۔جبکہ جھیل بالائی ہنزہ کے علاقوں گوجال،ششکٹ اور گلمت کے علاقوں میں مزید پھیلنے کے باعث مزید نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔جھیل میں پانی کی آمد 2600 کیوسک سے زائد اور اخراج 200 کیوسک سے زائد ہورہا ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان کے لئے شاہراہ قراقرم کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کا کام انجام دینے والے ٹرانسپورٹ مالکان نے عطاآباد جھیل کی صورتحال کے باعث کام بند کردیا ہے۔ٹرانسپورٹ مالکان کا کہنا ہے کہ عطاآباد جھیل کے ٹونٹے یا ممکنہ سیلاب کے باعث،شاہراہ قراقرم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ،اس کے باعث ان کے لئے کا کام جاری رکھنا مشکل ہے۔ادھر متاثرین کے لئے ہیلی سروس آج بھی جاری ہے جس میں دو ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب گلگت اور ہنزہ کے محفوظ علاقوں میں لگائے گئے زیادہ تر امدادی کیمپ کھلے علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ آئے دن موسم کی خرابی کے باعث ان کیمپوں میں گزارا کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو ان کیمپوں میں پانی آجاتا ہے جو ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ جبکہ بیشتر کیمپوں میں روز مرہ استعمال کے لئے پانی کی سہولت بھی ٹھیک طریقے سے موجود نہیں ۔ متاثرین کی شکایت کے بعد کچھ کیمپوں میں تو کھانے پینے کی صورتحال بہتر ہوئی مگر بیشتر میں کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی اب بھی غیر تسلی بخش ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کچھ کیمپوں میں طبی سہولیات کے حوالے سے بہتر اقدامات کئے گئے ہیں جہاں پر ڈاکٹر اور طبی عملہ موجود رہتا ہے۔ تاہم بیشتر میں طبی سہولیات بھی غیر تسلی بخش ہیں
