May 18

گلگت ( کے ٹو )گلگت بلتستان کی پہلی حکومت اورپہلے وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کا گلگت بلتستان کے عوام کا پہلا تحفہ آزاد کشمیر اورصوبہ سرحد کے بعد پہلی بار ضلع گلگت اورضلع ہنزہ نگر میں بھی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں جہاں پر عطا آباد جھیل کے ممکنہ متاثرین کومنتقل کیا جارہا ہے جھیل سے سیلابی ریلے کی صورت میں نہ صرف ہنزہ نگر ، گلگت ،دیامرکوہستان اور ہزارہ ڈویژن کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آئیں گے بلکہ راولپنڈی کو گلگت سے ملانے والی شاہراہ قراقرم پرموجود کئی پل بھی سیلابی ریلے کی نذرہوجائیں گے جس کے بعد پورے گلگت بلتستان کا زمینی رابطہ کئی ہفتوں تک منقطع ہوجائیگا اور اس صورت حال میں پورے گلگت بلتستان میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہوجائیگی گزشتہ سال وفاقی حکومت نے پہلی بار گلگت بلتستان کوداخلی خود مختاری دینے کااعلان کیا جس کے بعد12نومبر کوگلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے پہلے انتخابات ہوئے اوردسمبر2009میں سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان کے پہلے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا 4جنوری 2010کو ہنزہ عطا آباد سرٹ کے مقام پرلینڈ سلائیڈنگ ہوئی اورپہاڑ کاایک بڑا حصہ دریائے ہنزہ میں جاگرا جس کے نتیجے میں19افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دریائے ہنزہ میں آدھا کلو میٹر تک پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے دریا کابہاﺅ رک گیا اوروہاں پر ایک قدرتی جھیل بننے کاسلسلہ شروع ہوگیا اس دوران سابق گورنر گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ اوراین ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل (ر) فاروق احمد نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیاکہ جھیل سے پانی کے اخراج کو ممکن بنانے کیلئے سپل وے بنانے کاکام شروع کردیا گیاہے اور15مارچ2010تک جھیل سے پانی کااخراج شروع ہوجائیگا15مارچ 2010کو گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے دوسرے اجلاس میں مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی نے سانحہ عطا آباد کے حوالے سے ایک قرارداد پرتقریر کرتے ہوئے کہا کہ جھیل واٹر بم اورایٹم بم کی شکل اختیارکررہی ہے اوریہ جھیل پورے گلگت بلتستان کیلئے تباہ کن شکل اختیار کرسکتی ہے اس لئے ہمسایہ ملک چین کے ماہرین کی مدد لی جائے اورجھیل سے پانی کے ا خراج کوممکن بنایاجائے 16مارچ کو گلگت میں سابق گورنر گلگت بلتستان نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل(ر) فاروق احمد اوروزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم نے جھیل سے پانی کے اخراج کیلئے15مارچ کی تاریخ دی تھی مگر اب15 اپریل کو جھیل سے پانی کااخراج ممکن ہوگا 22اپریل کو قانون سازاسمبلی کے تیسرے اجلاس میں رکن اسمبلی مرزا حسین نے ایک بارپھر جھیل سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال سے ایوان کوخبردارکیا مگرپورے ہاﺅس میںموجود تمام ممبران اسمبلی خاموش تماشائی بنے رہے صرف رکن اسمبلی دیدار علی نے اس مسئلے پر تقرر کی اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زوردیا مگر دیگر تمام ممبران اسمبلی نے انتہائی غفلت اور لاپرواہی کامظاہرہ کیا ایک موقع پر سپیکر وزیر بیگ نے کہاکہ میرے حلقے کا مسئلہ ہے اور اسے میں بہتر طورپر سمجھتاہوں مسلم لیگ ق مسلم لیگ ن اورمتحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کی سیاسی حلیف جماعت جمعیت علمائے اسلام نے بھی وقتاً فوقتاً جھیل کی صورتحال پر گلگت بلتستان کی حکومت کوخبردار کرتے رہے مگر وزیراعلیٰ اور گلگت بلستان حکومت کے کانوں پرجوں تک نہیں رہینگی بلکہ ایک موقع پروزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے یہاں تک کہ دیا کہ جھیل ٹوٹنے کی باتیں کرنے والے ملک دشمن ہیں اس میں دورائے نہیں ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کوعطا آباد جھیل کی ممکنہ تباہ کاریوں کاتھوڑا بہت بھی احساس ہوجاتا توآج گلگت بلتستان میں سراسمیگی کایہ عالم نہ ہوتا مرزا حسین نے کے پی این کو بتایا کہ اگرشروع دن سے ہی گلگت بلتستان کی حکومت اوروزیراعلیٰ ذمہ داری کا احساس کرتے تو آج یہ تباہ کن صورتحال پیش نہ آتی انہوں نے بتایا کہ اگرمتاثرہ علاقے میں جھیل سے پانی کے اخراج کاٹھیکہ شاہراہ قرقرام کی توسیع ومرمت کرنے والی چینی کمپنی یاحکومت چین کے ماہرین کے حوالے کرتے تو جھیل سے کب کا پانی خارج ہوچکا ہوتا اورآج ہم نہ اس تباہ کن صورتحال سے دوچار ہوتے نہ خیمہ بستیاں قائم کرنے کی ضرورت ہوتی انہوںنے ایک سوال کے جواب میں تبایا کہ اس دوران گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے کئی دفعہ صدر اوروزیراعظم سے ملاقات کی تھیں وزیراعلیٰ اس صورتحال سے صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کرتے تو پانی کے اخراج کا ٹھیکہ چینی انجینئر ز کو حوالے کیا جاتا یا پھر ایف ڈبلیو او کے انجینئر زیادہ نفری اوروسائل سے سپل وے بنانے کاکام کرتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی اورآج جو صورت حال گلگت بلتستان کوہستان ہزار ہ میں اورنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل ہے انہوںنے کہا کہ ہم نے شروع دن ہی کہا تھاکہ یہ جھیل واٹر بم کی شکل اختیار کررہی ہے ا ورسوچھے سمجھے منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کوڈبو یاجارہا ہے مگرافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری باتوں پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی دوسری طرفہ ضلع ہنزہ نگر کے ڈپٹی کمشنر ظفر وقار تاج نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سپل وے پر کام بند کردیا گیاہے اورہنزہ نگر کے 18اٹھارہ ممکنہ متاثرہ علاقوں کو خالی کرانے کاعمل شروع کردیا گیاہے انہوںنے بتایا کہ جھیل سے پانی کے اخراج کیلئے بنائی گئی سپل وے کی لمبائی450اورگہرائی24میٹر ہے انہوںنے بتایا کہ ممکنہ سیلاب کی صورت میں جھیل سے پانی کااخراج ساٹھ میٹر یا 200فٹ بلند لہر کی صورت میں ہوگا اگر ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر کی بات درست تسلیم کیاجائے تو200فٹ بلند لہر کے سیلابی ریلے کی صورت میں ہنزہ سے راولپنڈی تک شاہراہ قراقرم پرکوئی پل بھی سلامت نہیںرہے گا اورسیلابی ریلا تھمنے کے بعد بھی شاہراہ قراقرم پر دوبارہ لکڑی کے معلق پل تعمیر کرنے کیلئے ہفتے درکارہونگے اوراس دوران پورے گلگت بلتستان کازمینی رابطہ پوری دنیا سے کٹ جائیگا اورپورے گلگت بلتستان میں قحط جیسی صورتحال پیش کرنے کاخدشہ ہے اس کے علاوہ سیلابی ریلے کی صورت میں ضلع ہنزہ نگر ،گلگت ، دیامر ، کوہستان اورہزارہ ڈویژن میں کئی نشیبی علاقے ڈوب جائیں گے 2005میں آزاد کشمیر میں زلزلے کی وجہ سے متاثرین کیلئے خیمہ بستیاں قائم کی گئی تھیں جبکہ سال2009میں صوبہ سرحد میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے متاثرین کیلئے خیمہ بستیاں قائم کی گئیں تھیں جبکہ2010میں گلگت اورہنزہ نگر میں پہلی بارعطا آباد جھیل کے ممکنہ متاثرین کیلئے خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں غیر جانبدار مبصرین کے مطابق سانحہ عطاآباد ایک قدرتی آفت تھی مگر اب جھیل کی ممکنہ تباہ کاریاں قدرتی یآفت نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی حکومت ، وزیر اعلیٰ اور سید مہدی شاہ اور وفاقی حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آ رہی ہیں عوام کا کہنا ہے کہ سانحہ عطا آباد کے بعد جھیل کی ممکنہ تباہ کاریوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو بچانے کیلئے ممکنہ تباہ کاریوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو بچانے کیلئے گلگت بلتستان کی حکومت وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ اور ممبران قانون ساز اسمبلی نے مثبت کردار ادا کرنے اور ذمہ داری کا احساس کرنے کی بجائے انتہائی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیاہے اور تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریگی۔ نلتر پاور ہاﺅس کو گلگت میں موجود گرڈ اسٹیشن کو ملانے والی سپلائی لائن کے کھمبے دریا کے کنارے نصب ہیں اور سیلابی ریلے کی صورت میں یہ تمام کھمبے بھی سلابی ریلے کی زد میں آئیں گے اور اگلے کافی عرصے تک پورا گلگت شہر اور گردونواح کے علاقے تاریکی میں ڈوب جائیں گے اس صورت حال سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت اور انتظامیہ کو جھیل کی ان ممکنہ تباہ کاریوں کا سرے سے احساس ہی نہیں تھا

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

One Response to “خطرے سے بچنے کاموقع تھا ، نادان حکمرانوںنے گنوادیا”

  1. fanai says:

    ZALIM HUKMARANOOK ZALIM AYASHIYAN,JEEL KA SATH SATH PAKISTAN BI TOOTNA KA KHATRA NAZAR ARAHA HA,HAMARI DUA HA ALLAH TALA JEEL KO TOUD DAY LAKIN PAKISTAN BACHAIYE.

Leave a Reply

preload preload preload