May 19

ہنزہ (کے ٹو) عطا آباد جھیل کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ایک دن کیلئے بحال کی گئی کشتی سروس دوبارہ معطل کردی گئی ہے اس کے ساتھ عطا آباد جانے والے تمام راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں جبکہ مصنوعی جھیل میں پانی کی سطح دس سے پندرہ فٹ اضافہ ہوگیا ہے جس سے جھیل میں پانی کی سطح 360 فٹ تک پہنچ گئی ا ور اب پانی کی سطح سپل وے سے صرف چھ میٹر رہ گئی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ ہنزہ جھیل میں پانی کی سطح 360فٹ ہے اور 20مئی تک جھیل کا پانی سپل وے تک پہنچنے کا امکان ہے جس کے ساتھ ریڈ الرٹ کردیا جائے گا سیلاب کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنزہ اور گلگت کے درمیان امدادی ٹیموں کی تعداد اٹھارہ سے بڑھا کر 30 کردی گئی گلگت اورہنزہ سے گوجال تک ہیلی کاپٹر سروس موسم بہتر ہونے پر شروع کردی جائے گی لینڈ سلائیڈنگ سے پانی کی سطح اچانک دس فٹ بلند ہوگئی تھی جھیل پر شروع کشتی سروس بھی بند کردی گئی ہے
ادھر عوام کے کہنے پر انتظامیہ نے منگل کے روز جھیل میں کشتی سروس ایک دن کیلئے بحال کی تھی تاکہ جھیل کے دونوں طرف پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جاسکے تاہم عطا آباد جھیل کے مقام پر شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کشتی سروس دوبارہ معطل کردی گئی۔گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر وزیر بیگ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ جانی خطرات کے پیش نظر کشتی سروس بند کی گئی ہے اور امکان ہے کہ ایک دن بعد عطا آباد جانے والا روڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا جائے گا انہوں نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دس سے پندرہ دن تک عطا آباد جھیل کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں نجی ٹی وی کے مطابق ہنزہ جھیل پر پہاڑ دوبارہ سرکنا شروع ہو گیا ہے۔آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ وادی ہنزہ میں پہاڑی تودہ گرنے سے بننے والی مصنوعی جھیل آئندہ پانچ سے چھ دن میں لبریز ہو جائے گی اور اس کا پانی سپل وے سے بہنا شروع ہو جائےگا۔این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے منگل کو اسلام آباد میں ایک نیوز بریفنگ میں بتایا جھیل کی لمبائی سولہ کلومیٹر سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ اس میں اوسطاً ایک میٹر یومیہ پانی بڑھ رہا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’پانی اور سپل وے کے کناروں کی سطح میں چھ میٹر سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ہے اور اس حساب سے بائیس مئی کے بعد کسی بھی وقت یہ پانی اسپل وے سے بہنا شروع ہوجائے گا‘۔انہوں نے بتایا کہ جھیل لبریز ہونے کے بعد ایک یا ایک سے زیادہ جگہوں سے اس کے بند ٹوٹنے کا بھی خطرہ موجود رہے گا۔این ڈی ایم اے کے سربراہ کے مطابق صورتحال کے پیش نظر فوج کی انفنٹری اور انجینئرنگ کے چار یونٹ بھی علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی حادثے کی صورت میں سول انتظامیہ کی مدد میں کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’ہماری تیاری یہ ہے کہ اگر جھیل کا بند ایک گھنٹے میں بھی ٹوٹے تو پھر بھی کوئی جانی نقصان نہ ہو‘۔لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے ہنزہ، گلگت اور این ڈی ایم اے میں کمانڈ اور کنٹرول مراکز بنا دیے گیے ہیں اور امدادی تنظیمیں، سرکاری اور سماجی ادارے بھی ان مراکز کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بند ٹوٹنے کی صورت میں لوگوں کو پیشگی خبردار کرنے کے لیے ’نگرانی اور پیشگی آگاہی کا ایک بڑا واضح نظام‘ قائم کردیا گیا ہے جبکہ ایک موبائل فون کمپنی کے ذریعے مسیجنگ سروس کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے اور خدانخواستہ ڈیم ٹوٹتا ہے تو لوگوں کو پیشگی پیغام بھیج دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت تک جتنے بھی ڈاو¿ن سٹریم دیہات تھے انہیں خالی کرالیا گیا ہے اور ان کے لیے اٹھارہ کیمپ بنائے گئے ہیں۔ جنرل (ر) ندیم کے مطابق ’زیادہ تر لوگوں اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے خیمہ بستیوں کی بجائے تعلیمی اداروں کی عمارتوں یا اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں منتقل ہوئے ہیں‘۔ ان کے بقول جو لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں پر منتقل ہوئے ہیں انہیں ایک ایک مہینے کا راشن دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں پر بوجھ نہ بنیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے اسّی کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد کا کہنا تھا کہ ’شاہراہ قراقرم کا جو حصہ زیر آب آیا ہے اس کا مستقل حل ماہرین کے مطابق 2012 تک شاید مکمل ہو لیکن عارضی حل کے طور پر جھیل میں پانی کی سطح مستحکم ہونے کے بعد تین مہینوں کے اندر عارضی رستہ بنا دیا جائے گا تاکہ کم از کم علاقے کے لوگوں کی آمدورفت کی ضروریات پوری ہو سکیں‘۔ دریں اثنا گورنر گلگت بلتستان ڈاکٹر شمع خالد نے منگل کو گلگت میں ہنزہ جھیل کے ممکنہ طور پر ٹوٹنے کی صورت میں امدادی کارروائیوں کے لئے قائم کی گئی مختلف خیمہ بستیوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی سی گلگت اسد ضامن اور ایس پی گلگت علی شیر نے گورنر کو ریلیف کیمپ اور خیمہ بستی میں جاری امدادی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر گورنر ڈاکٹر شمع خالد نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھیل کے ٹوٹنے کی صورت میں متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لئے ہمارے پاس تمام وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے کہا ہے کہ چینی کمپنی کی ناکامی کے بعد ہی عطاءآباد جھیل کا سپل وے بنانے کا کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا۔ 21 جنوری کو یہ کام ایف ڈبلیو او کو دیا گیا اور انہوں نے 15 مئی کو سپل وے کا کام مکمل کر لی

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload