گلگت(کے ٹو) گورنر گلگت بلتستان ڈاکٹر شمع خالد نے کہا ہے کہ حکومت بالائی ہنزہ میں بننے والی قدرتی جھیل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ ہے اور دریائے ہنزہ کے دونوں اطراف کے نشیبی علاقوں کے عوام کی تشویش کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی جمعرات کی شام سپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان وزیر بیگ سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر ڈاکٹر شمع خالد نے انہیں یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کرے گی اور زیریں نشیبی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن سہولتیں مہیا کرے گی انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت اورنیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی سے مکمل رابطہ رکھا جائے گا اور اس سلسلے میں اقدامات کیے جائیں گے اس سے قبل سپیکر قانون سازاسمبلی وزیربیگ نے ڈاکٹر شمع خالد کو بتایا کہ ڈیم کے پھٹنے کی صورت میں زیریں علاقوں کے بارہ ہزار لوگ متاثر ہوسکتے ہیں اور ایسے میں ان کی بحالی کیلئے بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے گورنر نے کہاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کرنے ہوں گے اور لوگوں کو خوراک اور دیگر ضروریات زندگی بروقت فراہم کرنا ہوں گی اس موقع پر سپیکر اسمبلی نے گورنر کوبتایا کہ ہنگامی صورتحال کے دوران نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے ہیلی کاپٹرز کا گلگت میں موجود رہنا ضروری ہے تاکہ ہنگامی حالات میں ان کو استعمال میں لاکر لوگوں کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے جس پر گورنر نے انہیں بتایا کہ وفاقی حکومت اورنیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا جائے گا سپیکر نے عالم برج تادنیورشاہراہ کو چوڑی کرنے کے ساتھ ساتھ اسے میٹل کرنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہ ہنگامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اس روڈ کی کشادگی کرے کیوں کہ اگر خدانخواستہ ڈیم پھٹتا ہے تو ضلع ہنزہ نگر کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ ٹوٹ جائے گا اور راستے میں جوپل ہیں وہ ڈیم کے پانی کے ریلے میں بہہ جائیں گے ایسے میں عالم برج تادنیور سڑک کو قابل استعمال بناکر لوگوں کی مشکلات کم کی جاسکتی ہیں سپیکر اسمبلی وزیر بیگ نے سانحہ عطا آباد اور بالائی ہنزہ کو بھرپور مدد فراہم کرنے پر وفاقی حکومت کاشکریہ ادا کیا گورنر ڈاکٹر شمع خالد نے کہاکہ حکومت علاقے میں کسی چیز کی کمی ہونے نہیں دے گی اور لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی سپیکر نے ڈاکٹر شمع خالد کو گورنر گلگت بلتستان مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناﺅں کااظہار کیا اورہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی انہوں نے گورنر کو گلگت بلتستان گورننس آرڈر کے تحت داخلی خودمختاری اور سابق ادوار میں گلگت بلتستان کی حیثیت سے بھی آگاہ کیا۔

Journalism is the profession of sensitive individuals who understand the real problems of people and are willing and courageous enough to speak the truth, with complete disregard to the consequences. Those who don’t have guts to speak the truth need not to be in the profession, at all.
The people of Gojal were enraged because of the misinformation spread by all major newspapers of Gilgit – Baltistan related to the Sost Dry Port Controversy. Daily K2 reported that ‘miscreants’ had broken down the port property and smashed windows, while protesting against the previous management of Sost Port Trust. In reality not a single pebble had been thrown at the port by peace loving people of the region. Similar news reports, misinforming their readers, appeared in other newspapers, like weekly Baad-e-Shimal. The ill intentioned reporters and editors were trying to spread the fabricated news that the new, elected, cabinet of the port trust and the local population were on the verge of some battle.
Wazir bag sahab badi jaldi hoash aya ap ko ap na apni ye wfadri kab tabdil kardi ap to sha se ziyada sha k wafadar thy bag saha wafadar kkuta banuy k bajai apne awam ki fikar karn . ap to aqtadar milne k bad apny ghar walun ko bhol gai han ap ko apni oqat ni bolni chaie