اسلام آباد (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان اور ڈائریکٹر آپریشن بریگیڈیئر ساجد نعیم نے کہا ہے کہ جھیل اور سپل وے کے درمیان صرف ایک فٹ 9 انچ کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے اور رات گئے کسی بھی وقت سپل سے پانی کا اخراج ممکن ہے تمام ہنگامی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جبکہ قراقرم ہائی وے کو لوگوں اور ٹریفک کےلئے بند کر دیا گیا ہے۔
متاثرین کو غذائی اشیاءاور طبی سہولتوں کی فراہمی جاری ہے۔ جمعہ کو ”اے پی پی“ سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جھیل اور سپل وے کے درمیان صرف ایک فٹ 9 انچ کا فاصلہ رہ گیا ہے اوریہ رات 3 بجے سے چار بجے کے دوران سپل وے سے اخراج متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیل سے پانی کے اخراج سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کےلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور فوجی اہلکاروں، پولیس اور امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تودے گرنے کی صورت میں شاہراہ قراقرم کو کھولنے کےلئے ایف ڈبلیو او کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اسی طرح پاک فوج کے انجنئر سیلابی ریلے سے پلوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ان کی مرمت کی ذمہ داری سونپی گئی ےہ جبکہ عارضی پلوں کو اتار لیا گیا ہے اور صرف ضروری آمد و رفت کےلئے بعض مقامات پر رسیوں سے عارضی پل بنائے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پانی کے راستے میں آنے والے تمام 36 دیہات کو خالی کرا لیا گیا ہے اور متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں تمام ممکنہ امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 2005ءکے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بڑا سبق سیکھا ہے اور اس وقت تمام کارروائیاں مربوط انداز میں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، گلگت بلتستان حکومت، این جی اوز کے درمیان مکمل تعاون موجود ہے اور باہمی تعاون کے ذریعے امدادی سرگرمیاں سر انجام دی جا ری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسف، خوراک کے عالمی پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی متاثرین کےلئے بھرپور امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر روز کی صورتحال کے مطابق حکمت عملی طے کرنے کےلئے ہنزہ، گلگت اور ہنگامی امداد کے ادارے میں خصوصی سیل قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی نام کمانے والی بات نہیں ہے۔ متاثرین کی امداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ حکومت، ہلال احمر، مسلم ہینڈ، فوکس اور دیگر اداروں کی طرف سے امدادی سامان گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کیا جا رہا ہے جو متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کرنے کی ذمہ دار ہے اور اسے تمام ادارون کی طرف سے مکمل مدد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کی ٹیم بھجوائی گئی جنہیں متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے اس کے علاوہ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے بھی ڈاکٹروں کی ٹیم بھجوائی جا رہی ہے
