Apr 04

گلگت ( کے ٹو) ڈپٹی کمشنر گلگت اسد ضامن نے کہا ہے کہ گلگت شہر کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے اوردہشتگردوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں جبکہ شہر میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے اس سلسلے میں شرپسندوں کو اڈیالہ جیل بھجوانے سمیت مختلف تجاویز زیرغور ہیں انہوںنے ایس پی گلگت علی شیر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے واقعات ایک معمول بن چکے تھے مگر گزشتہ پانچ ماہ سے شہر کے حالات کافی ابتر تھے مگر ہماری بدقسمتی کہ گزشتہ چند روز سے فرقہ وارانہ دہشتگردی کے واقعات پھر سے شروع ہوئے ہیں مگر ہم نے بھی تہہ کررکھا ہے کہ اس مرتبہ دہشتگردوں اوران کے سرپرستوں کو گرفتار کرکے دم لیں گے اس سلسلے میں منتخب عوامی نمائندوں نے بھی واضح پیغام دیاہے کہ دہشتگردوں سے کوئی نرمی نہ کی جائے انہوںنے کہا کہ گلگت شہر میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اورہم نے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری ایکشن لینے کافیصلہ کرلیا ہے اور کسی کو شہر کے پرامن ماحول کوخراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گلگت کے عوام انتہائی پرامن لوگ ہیں البتہ چند شرپسند اوردہشتگرد شہر کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر ہم اب ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں یہ اب یہاں کے عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس گند کوصاف کرنے میں انتظامیہ تعاون کریں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شہر کے بعض حساس مقامات پرمزید چوکیاں بنا رہے ہیں رینجرز اورپولیس کے حوالے سے عوام کے تحفظات سے آگاہ ہیں اوراس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں جس کے مثبت نتائج بہت جلد سامنے آئینگے انہوںنے علما سے بھی اپیل کی کہ وہ گلگت شہر میں امن وامان کی صورت کو بہتر بنانے میں کردارادا کریں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ نائب تحصیلدار محمد اکبر قتل کیس کے ملزموں کی نشاندہی ہوچکی ہے جبکہ یاد گار چوک فائرنگ کیس ،پل روڈ فائرنگ کیس ، جوٹیال فائرنگ کیس کے حوالے سے بھی اہم شواہد سامنے آگئے ہیں جبکہ گزشتہ روز بسین میں قتل ہونے والی خاتون کے قاتلوں کی تلاش بھی پوری سرگرمی سے کی جارہی ہے ایس پی گلگت علی شیر نے کہاہے کہ گلگت پولیس نے گلگت شہر میں دہشتگردی کے کئی منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے ملازموں کو گرفتار کرلیا ہے انہوںنے گلگت میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز بسین میں قتل ہونے والے نائب تحصیلدار محمد اکبر کے قاتلوں کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں سے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیاہے جبکہ دوملزموں کوگرفتار کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہوںنے بتایا کہ گزشتہ5 روز کے دوران گلگت پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے منصوبوں کاناکام بنادیاہے اورکئی ملازم کو واردات سے قبل گرفتار کرلیا گیاہے انہوںنے کہاکہ اب تک گلگت پولیس نے22افراد کوگرفتار کرلیا ہے اوران سے تحقیقات جاری ہے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی دہشتگردی کے تمام واقعات کے ملزموں کوگرفتار کرلیا گیاہے انہوںنے کہا کہ اسد زیدی قتل کیس ، بگروٹ ہاسٹل فائرنگ کیس ، المرتضیٰ بک سینٹر دھماکہ کیس ، سیکرٹری ہیلتھ پرحملہ کیس اور سوزو کی پر فائرنگ کیس سمیت تمام واقعات کے اصل ملزموں کوگرفتار کرلیا گیا ہے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دہشتگردی کے ان واقعات میں اصل ملزم گرفتار ہوئے ہیں میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ میں نے کسی بےگناہ کو ملوث نہیں کیا بلکہ اصل ملزموں کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے انہوںنے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران شہر میں ہونے والی دہشتگردی کے تمام واقعات کے حوالے پولیس کو بریک تھرو ملاہے اورتمام ملزمان گرفتار کرلئے جائیں گے انہوںنے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ سچ بولنے پرتیار نہیں ہے جھوٹے ایف آئی آر درج کرانا اورگواہی دینے پر رضا مند نہ ہونا ہماری پہچان بن چکی ہے اس وقت ہم نے دہشتگردی کے21واقعات کے ملزم گرفتار کرکے چالان عدالت میں پیش کیاہے مگر افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ ان تمام کیسز میں کوئی عینی شاہد یا گواہ سامنے نہیں آیا یہ تمام کیسز اللہ تعالیٰ کے سہارے چل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں دہشتگردی کے واقعات کو کنٹرول کرنا صرف پولیس یا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ ان واقعات کوکنٹرول کرنے کیلئے علما عوام اورسیاست دنوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی انہوںنے کہا کہ عوام ملزموں اورشرپسندوں کی نشاندہی کریں تو بے گناہ افراد کوگرفتار کرنے کی نوبت ہی نہیں آئیگی انہوںنے کہاکہ پولیس کے پاس الہ دین کاچراغ نہیں ہے کہ بغیر کسی گواہ اورنشاندہی کے فورً ملزمان کوگرفتار کرے انہوںنے کہاکہ میں نے آج تک کسی بے گناہ کوجیل میں بند نہیں کیاہے ڈائریکٹر زراعت عبدالواحد قتل کیس میرے آنے سے قبل کا ہے اس لئے اس حوالے سے میں ذمہ داری سے کچھ نہیں کرسکتا انہوںنے بتایا کہ نائب تحصیلدار اکبر خان قتل کیس میں دوکلاشنکوف برآمد ہوئیں

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

6 Responses to “گلگت میں دہشتگردوں کودیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم”

  1. Khalid Nadeem Hunzai & Iqbal Nomali says:

    GILGIT k andar deshatgardi ki lehar dohd rahi hay. deshat gardoon ki or mazahabhi munafirat phelaney wale logoon ki poshte panahi hokomate pakistan krti hay. DUTY COMMISSIONER GILGIT janab ZAMIN saab ki bayan se humain ye samaj may nahi arah hay,ki wahan par deshat gardoon ko dekhte hi goli marainge ab pata nahi kis beqosoor shakhas ko deshat gardi ka nishna bana lenge sub se ziada deshet garde hokomat k karende hain.

  2. diya ali says:

    its not fair

  3. diya ali says:

    jis ny yea kaha hain o c ko goli mari jae

  4. GOOD DC ur gr8
    jis na be ya kaha hai gr8 ais he hona chyaa jo bedeshatgard gilgit hunza ma nazar aayagaa ussa 10 goilya marinachyaa.

  5. Mansoor sabir says:

    kisi Insan ka khon bahana koei asan bat nahi. kitnay bachay apnay bap ki peyar say Mahroom hongay. bivian biwah our kitnay log gamzada hongay. marnay walay ko miliga kia. Musulmano. thora socho samjho, aaya koei apnay mafad ki khatir hamin apas main to nahin larwarha hay. apnay bap dada ki qurbaniun per pani mat phiro. jo hamari chin o schoon kharab karin us ko goliuoon say chilni kardini chahiay. Allah ki Lathi bay Awaz hay, aisa shakhs kottay ki mat mariga insha allah.

  6. ashdar says:

    asad ko ya bolna nahi caheya tha kis ko nahi malum hy .govt ko sab malum hy ya sab govt khud karwa rahi hy take ya k log ise thra pesty rahy or pnjab sa log yahan hokomat karty rahy .iry gilgit ka logo apas ma itehat bayda karo ,ya kam surf student he kar saqty hein .jo pakistan ka kony kony ma hein .

Leave a Reply

preload preload preload