گلگت(کے ٹو)گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا ایوان پیر کے روز مچھلی منڈی بن گیا پیپلزپارٹی کے محمد علی اختر اور مسلم لیگ(ق)کے مرزا حسین نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دیں اور نہ صرف ”چپ رہو“ تم چپ رہو اور شٹ اپ جیسے الفاظ کا استعمال کیا بلکہ اپنی اپنی نشستوں پر اٹھ کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی اور دونوں ممبران اسمبلی سپیکر کے حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے اچھلتے رہے تو صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک رکن کو ڈپٹی سپیکر جمیل احمد اور دوسرے کو پیر کرم علی شاہ نے قابو کیا اور نشستوں پر بٹھا دیا پھر بھی دونوں بولتے رہے تو سپیکر نے سخت لہجے میں کہا کہ خاموش رہو ورنہ دونوں کو ایوان سے باہر نکال دیا جائے گا اس دوران مرزا حسین نے تین مرتبہ ایوان سے بائیکاٹ کر کے باہر نکلنے کی کوشش بھی کی مگر ڈپٹی سپیکر جمیل احمد اور سید پیر کرم علی شاہ نے انہیں روک دیا یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب قانون ساز اسمبلی کے تیسرے اجلاس کے پہلے روز پیر کو اجلاس کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ (ق)کے مرزا حسین نکتہ اعتراض پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی ہے گلگت بلتستان میں تعلیم ، صحت ، خزانہ اور دیگر محکمے شدید بدانتظامی کا شکار ہیں اور ان اداروں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے اور اس کے سدباب کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کو اسلام آباد کے تفریحی دوروں سے فرصت ہی نہیں ملتی ہے اور وہ ہر دوسرے روز اسلام آباد جاتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کے ارکان کو چاہئے کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اگر ضرورت پڑے تو ہمیں بھی بٹھائیں ہم کرپشن اور دیگرمسائل کی نشاندہی کریں گے یا صورتحال کا خود احساس کریں اور مسائل کے حل اور کرپشن کے خاتمے کیلئے عملاً کچھ کر کے دکھائیں تو ہم تعریف کریں گے انہوں نے کہا کہ پہلے ہم سب بیوروکریسی پر الزام لگاتے تھے کہ تمام اختیارات بیوروکریسی کے پاس ہیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کا بیوروکریسی احترام کرتی ہے انہوں نے کہا کہ اب نئے نظام کے تحت گلگت بلتستان کی حکومت اور منتخب نمائندوں کو اختیارات ملے ہیں تو نئے ضلع ہنزہ نگر کیلئے خالی اسامیوں پر بھرتی کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔اور گلگت بلتستان کے دیگر سرکاری اداروں میں اسامیوں کی منظوری کیلئے پی سی فور کی منظوری کیوں نہیں دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ عطا آباد کے متاثرین اور متاثرہ تاجروں کی بحالی کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کونسل قائم کر کے وزارت امور کشمیر کا سابقہ کردار اور وفاق کی بالادستی کو برقراررکھا گیا ہے انہوں نے کابینہ کی تاخیر سے اعلان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیامر کے جنگلات کے اربوں روپے کی آمدنی وفاق ہضم کر رہا ہے اب یہ مقامی لوگوں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونی چاہئے پیپلزپارٹی کے وزیر شکیل نے کہا کہ مرزا حسین مسائل کے حل تجویز کرنے کی بجائے الفاظ کی کھچڑی بنا کر مسائل کو الجھا رہے ہیں تا ہم گلگت بلتستان کونسل کے بارے میں مرزا حسین کے خدشات کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کے اوپر کونسل سمجھ سے بالاتر ہے پیپلزپارٹی کی سعدیہ دانش نے کہا کہ (ق)لیگ کے دور میں انتخابات کے ڈیڑھ دو سال بعد خواتین نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جبکہ کابینہ کی تشکیل دو سال گزرنے کے بعد کی گئی تھی جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ تمام عمل صرف چار ماہ میں مکمل کیا ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن سابق دور حکومت کے تحفے ہیں ہم پر الزام نہ لگایا جائے پیپلزپارٹی کے محمد علی اختر نے مرزا حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرزا حسین آمریت کی پیداوار ہیں اور وہ اپنے دور حکومت کی خرابیوں اور بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے حکومت پر بے جا تنقید کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ اصل کرپشن مسلم لیگ (ق)کے دور حکومت میں ہوئی اور اس وقت ہم اس لئے خاموش رہے کہ اس وقت ہمارے بولنے سے بھی کچھ ہونے والا نہیں تھا جس کے بعد مرزا حسین اور محمد علی اختر کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی مگر اراکین اسمبلی نے دونوں کو قابو کیا سپیکر وزیر بیگ نے دونوں ممبران کے اس روئیے کو پہلے ایوان میں ہلچل پیدا کرنے کیلئے ضروری قرار دیا مگر بعد میں دونوں ممبران کو ایوان سے باہر نکالنے کی دھمکی دیدی جس کے بعد محمد علی اختر نے مرزا حسین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد مرزا حسین کی دل آزاری نہیں تھا صرف جواب دینا تھا

kitnay afsoos ki bat ki hamaray numainday apas may kutay biliyun ki tarah ladrahay hain jubki un ko chahiya ki awam kay kia masail hain un par baith kay bat karain.us ka hal nikalain na ki aik dosray pa ilzam tashi karain,awam nay isliya wote nahi diya hay app parlement may is tarha ladain,jub numaindoon ka ya hal hay to phir awam ka to khudahi hafiz,sharam karo sharam karoo,doob maroo saray
Ye ek Khosh ayind baat hai ki Mirza Hussain Sahb ne Govt. ki Khamian awan ko batlayien….
Govt. me honey k naatey se M. Ali Akhter ko Chahiye tha ki jawab dedetey na ki JahiloN ki tarah Larhai par utar ajatey…
its is very sarrow full sitivation ,that our giders are faught each other in parliment
why the faught each other .my apny baro say guzarish karta hnokh ow apny
mulk or watan ky ly jan dy nah ka apne set ky ly jan dy .lihza my ak student hno .jb my ny ya khbar apny dosto say suna to bohat afsos huy .
is lya my ap sub say arz krta hno kh mhrbane kr ky apny watan ky lya
kam kry .nah kh faught each othersa.
azhar karachi .
my gilgit ky duty comissnier say arz karta hno kah waten ky halat ka khas
khyal rakhna ok .
We strictly condemn the policies of dictator generated parties i.e,PML(Q),they have nothing to say except criticism.We have beared greatest lost in Musharraf Gov”t,so whoever is supporting him is the ENEMY of all The Nation.Don’t try to glitter your politics!!!
sab dokhay bazzzzzzzz politics hain
it’s just ridiculous……..nothing z gonna chane