گلگت میں مذہبی جماعتوں کا زور توڑدینگے :پیپلزپارٹی
گاھکوچ (کے ٹو) وزیر فنانس محمد علی اختر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھٹو نے پاکستان کو دنیا بھر میں عظیم طاقت کے طور پر متعارف کرایا۔ یہ بھٹو ازم کی بدولت ہے کہ آج ہم کھلی فضاﺅں میں بول رہے ہیں ہمارے قائد نے ہمیں آواز دی۔ ہمارے خیال میں ہی نہیں تھا کہ مجھ جیسے گونگے شخص اور ڈاکٹر علی مدد شیر کو وزارت گا ۔ قلمدان سونپ دیا جائے گا یہ سب شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی مرہون منت ہے محمد علی اختر نے کہا کہ غذر کے عوام نے آمریت کے دور میں بھی پی پی پی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آمریت کے دور میں جنرل سیکرٹری پی پی پی غلام محمد کی سرکردگی میں عوام نے پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اسمبلی کے اندر وزیر اعلیٰ سمیت ہم سب کو چلانے والے کچھ ممبران اسمبلی میں ڈاکٹر علی مدد شیر کا نام صف اول میں شامل ہے۔ عوام آگے بڑھیں کابینہ کے ساتھ مل کر وفاق سے بھیک مانگ کر بھی فنڈز لائیں گے اور خطے کو گل و گلزار بنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیورو کریسی کے ہرگز مخالف نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ سرکاری آفیسران اپنی کرسی کو جاگیر نہ سمجھیں بلکہ عوام کے خادم بن کر کام کریں۔ گلگت بلتستان کونسل کے رکن ایڈووکیٹ امجد حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان نے سیاسی قائد کے بجائے نامور ٹھیکیدار پیدا کیئے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت نظام سے نکلتی ہے پی پی پی نے جو نظام دیا ہے اس کے تحت گلگت بلتستان کی آج حقیقی آزادی کا دن ہے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں مکمل آزادی آج مل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات گلی کوچوں میں آئے ہیں۔ محلوں کے اندر نہیں آتے پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہر دور میں عوامی حقوق کا احترام کیا ہے۔ غذر کے عوام باشعور ہیں کہ انہوں نے ہر دور میں پی پی پی کو مینڈیٹ دیا ہے خطے میں مختلف قسم کے نظریات اور سیاست کے حامل پارٹیاں کام کرتی ہیں ۔گلگت میں مذہبی جماعتوں کا زور ہے اس لیئے وہاں حالات ٹھیک نہیں ہم بہت جلد مذہبی جماعتوں کا زور توڑ دیں گے۔ گلگت کو ضلع غذر کی طرح پر امن علاقہ بنا کر دم لیں گے۔ امجد ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ ہمارا نظریہ ہے کہ ہم وفاق سے وابسطہ رہیں اور وفاق سے حقوق حاصل کریں ہم عوام کی فلاح و بہبود کے ضامن ہیں۔ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ہم نے مفاہمت کی سیاست کے تحت مخلوط حکومت تشکیل دی اور یہی فلسفہ ہمیں قائد عوام آصف علی زرداری نے دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وفاق کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے مسائل خود حل کریں اختیارات کا منبع ہمارے پاس ہی موجود ہے۔ ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جمیل احمد نے سنگل میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ غذر جیالوں کو سر زمین ہے۔ ڈاکٹر علی مدد شیر کو صدر پاکستان نے ان کی قابلیت اور اھلیت کے بل بوتے وزیر تعلیم کا قلمدان سونپ دیا ہے تاکہ وہ خطے میں تعلیم کو ترقی کی طرف لے کر جائیں۔ ڈپٹی سپیکر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دعوﺅں اور کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے گی تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل یقینی بنایا جاسکے۔ سنگل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ محمد موسیٰ نے کہا کہ غذر پر پی پی پی کے بہت سارے احسانات ہیں۔ پی پی پی واحد پارٹی ہے جس کے اندر تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ ہماری پارٹی گلگت بلتستان میں صرف 5 سال نہیں بلکہ آئندہ 5 سال بھی حکومت کرے گی۔ صدر زرداری کا پیغام ہے کہ گلگت بلتستان میں پارٹی مضبوط ہو اور امن، امان کا قیام ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں کے ہر ایک کارنامے کو صدر زرداری کے پاس پہنچائیں گے ۔عوام آج سے پہلے جس قدر شہید بھٹو سے محبت رکھتے تھے اسی طرح آئندہ کیلئے صدر زرداری سے محبت رکھیں کیوں شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے شہید بھٹو کے اصلاحات کو جاری و ساری رکھا ہے۔ آج جو صوبائی اختیارات ملے ہیں یہ صدر پاکستان کی مرہون منت ہیں۔مشیر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان آفتاب حیدر ایڈووکیٹ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذر اور پی پی پی لازم و ملزوم ہیں جنگ آزادی سے لیکر اب تک یہاں کے لوگوں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر علی مدد شیر قابل ترین لیڈر ہیں جو کہ اسمبلی کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوام نے ایسے جیالے کو منتخب کر کے ہمارے لیئے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ سعدیہ دانش نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ایک عورت کو تعلیم دینے کا مقصد پورے خاندان کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے متردف ہے۔ جس طرح ڈاکٹر علی مدد شیر کو ان کی اہلیت کی بنیاد پر وزارت ملی ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی مسائل کے حل کیلئے کردار اد اکریں۔ سعدیہ دانش نے مزید کہا کہ ہم صدر آصف علی زرداری اور گلگت بلتستان حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ موجودہ دور حکومت میں ہی عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیئے جائیں گے۔ سابق ڈپٹی چیف گلگت بلتستان، ممبر قانون ساز اسمبلی غذر پیر سید کرم علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی ہی خطے کے عوام کی نجات دھندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1952ءمیں غذر کے 7 بہادر سپوتوں نے خون کا نزرانہ دیکر جمہوریت کیلئے راہ ہموار کی ہے۔ گاﺅں سنگل اس لیئے بھی مشہور ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس گاﺅں میں بیٹھ کر ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر علی مدد شیر کو ہم ہر طرح کی رہنمائی فراہم کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر قانون اسمبلی غذر محمد ایوب نے کہا کہ ہم نے آزاد الیکشن لڑ کر اسمبلی کی نشست پارٹی کے قدموں میں رکھ دی۔ میں پارٹی کا بانی رکن ہوں مگر بعض قائدین کی طرضے امتیازی سلوک کے باعث پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ آج دوبارہ اپنی پارٹی میں شامل ہو کر مخالفین کی زبان بند کر دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں غذر کی سیاسی قیادت آپس میں دست و گریبان رہی جس باعث خطے میں تعمیر وترقی کا پہیہ جام ہوگیا تھا کہ مگر ہم اس مرتبہ سب ملکر غذر کی خوشحالی کیلئے کام کریں گے
