Mar 30

گلگت ( کے ٹو)گلگت میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں نامعلوم دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے ایک مجسٹریٹ کوقتل اور ان کے بھائی سمیت2افراد کوزخمی کردیا پولیس نے وقوعہ کے فوراً بعد بسین میں محاصرہ کرکے ملزمان کے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا اوراس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی2کلاشنکوف اورمتعدد راﺅنڈ بھی برآمد کرلئے تاہم دیگرحملہ آورفرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ٹارگٹ کلنگ کایہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گاہکوچ میں تعینات نائب تحصیلدار محمد اکبر گلگت میں نوپورہ بسین شوٹی میں واقع اپنے گھر سے اپنے بڑے بھائی صمد خان (ملازم اے جی پی آر) اوربھائی کے داماد ہیبت خان ( ملازم اے جی پی آر) کے ہمراہ گلگت شہر کی طرف آرہے تھے کہ پیر کی صبح تقریباً سو ا آٹھ بجے اولڈ بسین روڈ پر گوہر مسجد کے قریب گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے ان کی کار پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کار سوار تینوں افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طورپر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا دیاگیا جہاں نائب تحصیلدار محمد اکبر سر میں گولی لگنے کے باعث زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جبکہ دیگر دوزخمیوں مقتول محمد اکبر کے بڑے بھائی صمد خان اوران کے داماد ہیبت خان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہوئے سٹی تھانہ گلگت کے ایس ایچ او انسپکٹر شیر خان بھاری پولیس نفری کے ہمراہ بسین پہنچے ا ورجائے وقوعہ کامحاصر ہ کیا اس دوران ایس ایچ اوشیر خان خود قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے ایک گھر کے اندر داخل ہوگئے جہاں سے مبینہ طورپر واردات میں استعمال ہونے والی دو عدد کلاشنکوف اورراﺅنڈ بھی برآمد ہوئے اس موقع پر گھر میں موجود ایک نوجوان محمد سعید کو بھی گرفتار کرلیا گیا گرفتار ہونے والے ملزم نے پولیس کونہ صرف3حملہ آوروں کی نشاندہی کی ہے بلکہ اس واردات کے حوالے سے اہم معلومات بھی فراہم کی ہیں واردات میں ملوث ملزمان کو آئندہ48گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیاجائیگا دریں اثنا ٹارگٹ کلنگ کی اس واردات میں جاں بحق ہونے والے مجسٹریٹ محمد اکبر کی میت کوپوسٹ مارٹم کے بعد مرکزی امامیہ جامع مسجد پہنچا دیا گیا جہاں آغا راحت الحسینی نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی جس کے بعد انہیں نوپورہ بسین کے علاقے شوٹی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload