کراچی ( کے ٹو ) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کراچی میں رینجرز کے تشدد سے گلگت بلتستان کے پانچ طلبا شدید زخمی ہوگئے تشدد کے نتیجے میں دو طالب علموں کے سرپھٹ گئے جبکہ دیگر کے جسموں پرگہرے زخم آئے تمام زخمیوں کو ہسپتال میں پہنچا دیا گیا رینجرز نے طلبہ پراندھا دھند لاٹھیاں برسائیں اوربندوق کے بٹ مارے اوران کو سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا جس کی وجہ سے دو طالب علم بے ہوش ہوگئے جنہیں ہسپتال پہنچنے کے کئی گھنٹوں بعد ہوش آیا ناخوشگوار واقعہ کے بعد پیر کے روز یونیورسٹی بند کردی گئی عینی شاہدین کے مطابق یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے مابین ہونے والے تصادم کو روکنے میں ناکامی کے بعد رینجر پرامن طلبہ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور لہو لہان کردیا زخمی طلبہ کو رینجر کے نرغے سے چھڑانے کیلئے جانے والے طلبہ کو بھی تشدد کانشانہ بنایا گیا زخمی ہونے والوں میں زاہد ملک الطاف حسین ، شجاعت انقلابی ، ہاشم حسین ، محمد الطاف اوردیگر شامل ہیں ادھر ہسپتال میں زخمی طلبہ نے ہمارے نمائندہ کو بتایا کہ ہم پرامن ہیں اور کسی طلبہ تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اورغیرجانبدار ہیں مگر رینجرز نے ہمیں بدترین تشدد کانشانہ بنایا یاد رہے کہ تصادم اسلامی جمعیت طلبہ اور پختون اسٹوڈنٹس کے مابین ہوا تھا

it is my resquet to all my North students do not invol in such type of gangs
you should think that why we people so far from ours home ,from our parents ,from our relatives i think we are far from our home only and only for studies not to join different groups .be unite my brothers and study well it will give you benefit nither then wasting ur time in such activities
i m aiso a student like u people
Behind every bad happening there is truth hidden.i mean “wet blanket”,i think our students there in Karachi should keep themselves with their studies for which they had such a long migration,they shouldn’t have to be involved in such incidents.may be i wrong but its my suggestion to my future of Gilgit-Baltistan.
Its Sad and we all pray for health of injured students lets all work for the prosperity of our Gilgit Baltistan and in broader sense for properity of pakistan and humanity ameen