گلگت(کے ٹو) قانون ساز اسمبلی کے سپیکر وزیر بیگ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سرکاری اداروں کا نظام بگڑا ہوا ہے کرپشن عام ہے اور میرٹ پامال ہورہا ہے
اور ان اداروں کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے اور جس ادارے میں کرپٹ لوگ ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یہ ریمارکس انہوں نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں مرزا حسین کی جانب سے محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کی جانب سے ملازمتیں فروخت کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے دیئے وزیر بیگ نے کہا کہ پہلے عوام کے نمائندوں کے پاس اختیارات نہیں تھے اب عوام کے نمائندوں کو اختیارات ملے ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو بھی ملنا چاہیے انہوںنے کہا کہ عوام کے مسائل اس ہاﺅس میں پیش کرنا حق ہے چاہے قرارداد کی شکل میں ہو یا تحریک التوا کی شکل میں جیسے بھی ہو عوام کے مسائل سامنے آنے چاہئیں اس سے قبل اجلاس میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے مرزا حسین نے کہا کہ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کا ایک اہم اور بڑا ادارہ ہے اور گلگت بلتستان کاروشن مستقبل اس ادارے سے وابستہ ہے مگر اس ادارے کی کارکردگی ہرگزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے شہری علاقوں میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیںمگر دیہاتوں اور دوردراز علاقوں میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود نہیں ہیں اور تعلیم کا نہ صرف حق دار اور قابل لوگوں کی حق تلفی ہورہی ہے بلکہ ذاتی فائدے کیلئے گلگت بلتستان کے طلبا وطالبات جو اس علاقے کے مستقبل کے معمار ہیں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہاہے اس اہم مسئلے پر معزز ایوان کاخاموش رہنا اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور اپنے بچوں کامستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہے اس لئے محکمہ تعلیم کے ذمہ دار لوگوں پر کڑی نظررکھی جائے اور کرپٹ اور بدعنوان اہلکاروں کے علاوہ وہ تمام افراد جو اس محکمہ میں بے ضابطگیوں اورخرابیوں کے ذمہ دار ہیں کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق سخت سزادی جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی موجودگی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے مگر افسوس کی بات ہے کہ سرکاری سکولوں میں نظام تعلیم تباہ ہوچکاہے جس کی وجہ سے پورے گلگت بلتستان میں سپریم کورٹ لیول کا کوئی وکیل نہیں ہے ملکی سطح کا کوئی سیاست دان ڈاکٹر اور انجینئر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ملازمتیں سرعام فروخت ہورہی ہیں وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک چھوٹی اور معمولی بات ہے اس چھوٹے سے مسئلے پر قرارداد پیش کرکے اس ایوان کی توہین کی گئی ہے انہوںنے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ قراردادیں پاس کرنے کازمانہ گزر چکا ہے یہ چھوٹے چھوٹے مسائل میرے علم میں لائیں میں خود حل کروں گا انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کی اپنی حکومت قائم ہوچکی ہے اور تمام مسائل یہاں پر ہی حل ہورہے ہیں تو قراردادیں پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے اس ایوان میں ایسی قراردادیں لائیں جو گلگت بلتستان کے اجتماعی مسائل پر ہوں اور گلگت بلتستان سطح پر اس کا حل ممکن نہ ہواور وفاقی حکومت کا مسئلہ ہو انہوںنے کہا کہ میڈیا والے ہم پر ہنسیں گے کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک سپرنٹنڈنٹ کیلئے قرارداد پیش کی جارہی ہے انہوںنے کہا کہ اگر محکمہ تعلیم میں کرپشن ہورہی ہے تو اس کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں 5 سال تک ق لیگ کی حکومت تھی انہوںنے ان اداروں کو ٹھیک کیوںنہیں کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمہ تعلیم کے کسی ملازم یا آفیسر کی مدت ملازمت میںتوسیع نہیں کی ہے اگر کسی ملازم یا آفیسر کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی ہے تو یہ ق لیگ کی حکومت میں دی گئی انجینئر اسماعیل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے علاقے کا ہے اس قرارداد کو منظور کرکے ہم کہاں بھجوادیں یہ مسئلہ تحریک التوا یا نکتہ اعتراض پر پیش ہونا چاہیے دیدار علی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام سرکاری اداروں میں میرٹ کو پامال کیا جارہا ہے اور میرٹ پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے تمام ممبران اسمبلی کو مسائل پیش آرہے ہیں اور بیروزگار نوجوان سفارش کیلئے ممبران اسمبلی کے پاس آتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر تمام سرکاری اداروں میں میرٹ پر عمل ہواور تمام لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک ہو تو عوام روزگار اور دیگر مسائل کے حوالے سے ممبران اسمبلی سے رجوع نہیںکرینگے انہوںنے کہا کہ محکمہ تعلیم سمیت دیگر اداروں میں کھلے عام کرپشن ہورہی ہے اسامیاں فروخت ہورہی ہے پیسے دے دو اور بھرتی آرڈرلے لو کی پالیسی چل رہی ہے انہوںنے کہا کہ کرپشن معمولی مسئلہ نہیں ہے چور دروازے سے بھرتیاں معمولی مسئلہ نہیںہے تمام اداروں میں کرپشن کاخاتمہ ہونا چاہیے اور تمام اداروں میں میرٹ پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔

Its very tregic to know that our CM considers Corruption (specially in Education Dept) as small and simple thing. its right that such issues be come to the assembly on Point of order. But it need a serious attention from our representatives in Assembly. Any irregularities in education dept. realy hurts those who are competent but have no source (financial or referal). Mr. Mehdi Shah you are CM not a Civil dictator, All issues need to be discussed in the assembly not in your house or office. Please Think hundred times before saying any thing like that. Otherwise People know how to shift power politically. And aslo please stop the blame game. The Q Govt. is gone with their deeds (complete / incomplete) now its your turn. Work for the betterment of common man.
God bless our home Land
No problem how an issue is minor or big in its volume, it should be discussed in an open forum means in assembly and a collective decision may be taken by the government.