گلگت(کے ٹو)گلگت میں سانحہ چلاس کے خلاف جمعہ کواجتجاجی مظاہرے کئے گئے ، مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جائے۔سانحہ چلاس کے خلاف گلگت شہر کی مختلف مساجد سے نماز جمعہ کے بعد الگ الگ اجتماعی ریلیاں نکالی گئیں جو ایئرپورٹ چوک پہنچ کر اجتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئیں جلسے میں دیامر کے عوام سے یکجہتی کے لئے مختلف سیاستی ومذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں اور ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی مرکزی جامعہ مسجد اہلسنت سے نکالی گئی ریلی کی قیادت مرکزی امیر وخطیب قاضی نثار احمد کر رہے تھے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی نثار احمد نے کہاکہ حکومت متاثرین دیامر ڈیم کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو فوری منظور کرے بصورت دیگر احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر لے گی انہوں نے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان کو سیراب کرنے کیلئے دیامر کے عوام نے بہت بڑی قربانی دی ہے علاقے کے حقوق کیلئے ہم متحد رہیں گے ۔قاضی نثار احمد نے سانحہ عطا آباد کے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے سانحہ عطا آبادکیلئے کئے جانے والے اعلانات خوش آئند ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ ان اعلانات پر عملدرآمد کرے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ(ق)گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل وممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان بشیراحمد خان نے کہا کہ حکومت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دو معصوم انسانوں کو شہید کیا اور 7 سے زائد افراد کو زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بولٹن مارکیٹ جلا کر اربوں روپے کا نقصان کیا گیا لیکن کوئی گولی نہیں چلی۔دیامر کے عوام اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کر رہے تھے ان معصوموں پر گولیاں چلانا بہت بڑی زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کی تمام ترذمہ داری چیئرمین واپڈا پر عائد ہوتی ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً چیئرمین واپڈا کوبرطرف کیا جائے اوردیامر کے عوام کے مطالبات منظور کئے جائیں۔ ممبرقانون ساز اسمبلی حیدر خان نے کہا کہ دیامر ڈیم کا مسئلہ صرف دیامر کے عوام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کا مسئلہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کے حل اور دیامر کے عوام کے مطالبات کی منظوری کے لئے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں جدوجہد کی جائے ۔ سابق ممبر قانون ساز اسمبلی حمایت اللہ خان نے کہاکہ دیامر ڈیم کا مسئلہ صرف دیامر کے عوام کا نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کا مسئلہ ہے اور اگر حکومت نے عوام کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو گلگت سے بھی عوام چلاس کا رخ کریں گے اور حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ دیامر اور گلگت کے عوام میں کوئی فرق نہیں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دیامر کے عوام کے حقوق کے لئے طاقت کا استعمال بھی کرینگے۔ احتجاجی مظاہرے سے سابق امیدوار برائے قانون ساز اسمبلی حلقہ نمبر1 گلگت اور مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنما جعفر اللہ خان،پی پی پی کے رہنما، ناصر الدین قریشی، سابق چیئرمین ضلع کونسل دیامر سید افضل، مولانا مقصود اور مہناج الدین نے بھی خطاب کیا۔نوجوانان دیامر نے سانحہ چلاس کےخلاف کنوداس سے اتحاد چوک تک احتجاجی مارچ کیا جو ہنزہ چوک پہنچ کر احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گیا اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز قانون دان بازیر ترنگفہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ سانحہ چلاس کی ذمہ داری واپڈا حکام اور مقامی ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے حکومت سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کر کے سخت سزا دے اب دیامر کے عوام کسی صورت دیامر ڈیم بننے نہیں دیں گے کالا باغ ڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والوں پر کسی نے گولی نہیں چلائی لیکن پاکستان کیلئے قربانی دینے والوں پر پولیس نے فائرنگ کر دی دیگر مقررین نے کہا کہ سانحہ چلاس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دیامر ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو منسوخ کرے۔ سانحہ چلاس کے خلاف جمعہ کے روز ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پروکلا نے سپریم ایپلٹ کورٹ اور چیف کورٹ گلگت بلتستان کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا وکلا برادری سے خطاب کرتے ہوئے بارایسوسی ایشن کے صدر منظور احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ واقعہ چلاس پولیس اور انتظامیہ کی مشترکہ دہشت گردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ پرامن مظاہرین کا قتل کرنا ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے متاثرین پر ہونے والے ظلم کاحساب لیا جائے اور ملوث عناصر پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ منظور احمد ایڈووکیٹ نے کہاکہ دیامر ڈیم اور اس کی رائلٹی صرف دیامر ڈیم کی نہیںبلکہ پورے گلگت بلتستان کا مسئلہ ہے دکھ اور غم کی اس گھڑی میں متاثرین اپنے آپ کو ہرگز تنہا نہ سمجھیں ۔ حکومت نے متاثرین کے مطالبات کو فوری تسلیم نہ کیا تو احتجاج کا یہ سلسلہ مزید شدت سے جاری رہے گا
