گلگت(کے ٹو)فوج نے چلاس شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے سیکرٹری داخلہ گلگت بلتستان عثمان یونس نے کے پی این کو بتایا کہ چلاس میں جمعرات کے ناخوشگوار واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے فوج سے مدد طلب کر لی گئی تھی، جس کے تحت جمعہ کے روز پاک فوج ناردرن سکاﺅٹس کے دستے گلگت سے چلاس پہنچ گئے ، جس کے بعد چلاس شہر میں کشیدگی کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور حالات تیزی سے معمول پر آ رہے ہیں۔ ہوم سیکرٹری نے کہا کہ چلاس کا واقعہ افسوسناک ہے جس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ نے دیامر کے ڈپٹی کمشنر، ایس پی ، اے سی اور تحصیلدار کو معطل کیا ہے جو کہ مظاہرین کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کی بالادستی کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا لہٰذا چلاس کے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ شہر میں امن کی بحالی کیلئے حکومت کے اداروں کے ساتھ تعاون کریں عثمان یونس نے کہا کہ جمعرات کے واقعات کے بعد چلاس شہرمیں مظاہرین نے شاہراہ قراقرم کو بند کر دیا تھا جسے مذاکرات کے بعد کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد ہی معمول پر آ جائیں گے تا ہم ضرورت پڑنے پر اور حفظ ماتقدم کے طور پر چلاس شہر میں سکیورٹی فورسز کے گشت کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 2 افراد کی ہلاکت کے بعد شہر میں حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور احتجاج کرنے والوں نے کھلے عام دھمکی دی تھی کہ ہمیں انتظامیہ یا پولیس کا جو بھی افسر یا اہلکار نظر آئے گا ہم انہیں گولی مار دیں گے ، اس طرح سرکاری افسروں اورملازمین کی جانوں کو سخت خطرات لاحق ہو گئے تھے ۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ہم نے فوری طور پر عمائدین اور علما سے رابطے کئے ، جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے اور جمعہ کے روز کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بعض عناصر اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی کچھ چلاس میں بھی ہوا اور مظاہرے کے دوران بعض لوگ احتجاج کو تشدد کی طرف لے گئے جس کی وجہ سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے چار فسروں کو فوری معطلی کا مطالبہ کیا تھا جسے ہم نے فوراً تسلیم کر لیا۔ اس کے باوجود جمعہ کی رات کو مشتعل افراد نے ڈپٹی کمشنر آفس اور ایس پی آفس اور کئی گاڑیوں کو جلادیا اور سرکاری املاک کو سخت نقصان پہچایا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث کسی شخص کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا

we are with the people of Chilas. Such practices should not be repeated by either parties.
We are with the people of chilas and the decised family,and protest aganist these type of thing from govt of pakistan as will as cheif manister gilgit .