Feb 05

گلگت ( کے ٹو) ایس پی گلگت علی شیر نے کہا ہے کہ دسمبر2008سے اب تک گلگت شہر میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میںملوث تقریباً تمام ملزم گرفتار ہوچکے ہیں حتیٰ کہ امپھری میں سوزوکی وین پر فائرنگ میں ملوث ملزم کوگرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ چند واقعات کی از سرنو تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ہمیں توقع ہے کہ یہ کیسز بھی بہت جلد حل ہونگے انہوںنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت شہر میں دہشتگردی کے واقعات کی حالیہ لہر26دسمبر2008 میں ڈائریکٹر زراعت عبد الواحد کے قتل کے واقعے بعد شروع ہوئی تھی اور اس سلسلے کے آخری کڑی ستمبر2009 امپھری میںسوزوکی وین پرفائرنگ کاواقعہ تھا جس میں5افراد جاں بحق ہوئے تھے انہوںنے بتایا کہ دسمبر2008 سے ستمبر2009 تک گلگت شہر میں دہشتگردی کے چالیس واقعات ہوئے جن میں اسد زیدی قتل کیس بھی شامل ہے انہوںنے بتایا کہ ان واقعات میںملوث تقریباً تمام ملزم گرفتار ہوچکے ہیں چند ایک واقعات کے ملزموں کا تاحال سراغ نہیں ملا ہے ان واقعات کی ازسرنو تحقیقات کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے اورہم ان واقعات کوبھی حل کرنے بھی کامیاب ہوجائیں گے انہوںنے کہا کہ ستمبر2009میںوزیراعظم کے دورہ گلگت کے دوران امپھری گلگت میں ایک سوزوکی وین پرفائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں پانچ 5افرا د جاں بحق جبکہ8زخمی ہوئے تھے یہ اس سلسلے میں بھی ہمیں اہم کامیابی ملی ہے انہوںنے بتایا کہ اس سلسلے میں ہم نے سید اسرارحسین نامی شخص کوگرفتار کیا تھا اس نے نہ صرف رضا کارانہ طورپر اعتراف جرم کیا ہے بلکہ اپنے دیگرتین ساتھیوں کی بھی نشاندہی کی ہے ہم بہت جلد ان تین افراد کو بھی گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے انہوںنے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سونیکوٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں اطہر نامی شخص زخمی ہوا تھا اس واقعہ میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کوگرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک شخص ابھی بھی مفرور ہے اس طرح گزشتہ روز سونیکوٹ میں ہی رہبرحسین پر دکان میں فائرنگ کی گئی تھی اس واقعہ میں بھی ملوث ہونے کے شبے میں دوافراد کوگرفتارکرلیا گیاہے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم اسلام کے پیرو کار ہیں اورمسلمان ہونے کے دعویدار ہیں ہمارا دین ہمیں سچ بولنے اورگواہی دینے پر زرودیتاہے مگرافسوس کی بات ہے کہ ہم نہ تو سچ بولنے کیلئے تیار ہیں اورنہ ہی گواہی دینے کیلئے تیار ہیں جس کی وجہ سے اکثر ملزم گواہی نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے چھوٹ جاتے ہیں انہوںنے کہا کہ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں درست ایف آئی آر درج نہیں کرائی جاتی ہے چوری کے واقعات میں مال بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتاہے جبکہ دہشتگردی کے واقعات میں بے گناہ افراد کونامزد کیاجاتاہے جبکہ عوام پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کرتی جس کی وجہ سے بعض اوقات بے گناہ افراد گرفتار ہوجاتے ہیں اوراصل ملزم بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں انہوںنے بتایا کہ قتل یا دہشتگردی کاہرواقعہ فرقہ ورانہ نہیں ہوتا ہے پرانی دشمنی یاجائیدا اورلین دین کے تنازعے پربھی قتل کے واقعات ہوئے ہیں مگر گلگت شہر میں بدقسمتی سے قتل کے ہر واقعے کو فوراً فرقہ ورانہ رنگ دے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بھی پولیس کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑ تا ہے انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ اشتہاری ملزمان کوگرفتاری کیلئے ایگل سکواڈ کے نام سے ہم نے خصوصی ٹیم بنائی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے18 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرلیاہے انہوںنے بتایا کہ چہلم اما حسین ؑ کے سلسلے میں بھی ہم نے خصوصی انتظامات کئے ہیں گلگت شہر کے تمام داخلی راستوں پر چیکنگ سخت کردی گئی ہے جبکہ شہر کے تمام ہوٹلوں کی بھی چیکنگ کی جارہی ہے انہوںنے بتایا کہ گلگت شہر میںموجود غیرمقامی افراد کی فہرستیں بنائی گئی ہیں اورہم ان پربھی نظر رکھے ہوئے ہیں انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گلگت شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میںملوث کسی بھی گروپ کا القاعدہ یا طالبان سے کوئی رابطہ نہیں ہے تمام گروپ لوکل ہیں اوران گروپوں کی اکثریت گرفتار ہوچکی ہے انہوںنے بتایا کے گلگت شہر میں امن وامان کوبرقرار رکھنے کیلئے ہم نے نہ صرف امن کمیٹیاں بنائی ہیںبلکہ علما کرام سے بھی جواب میں بتایا کہ تانگیر دیامر جیسے دوردراز علاقوں میں دکانداروں نے اپنی دکانوں کی حفاظت کیلئے چوکیدار رکھا ہوا مگر افسوس کی با ت ہے کہ گلگت جیسے بڑے شہر میں مالدار دکانداروں نے کوئی بھی چوکیدار نہیں رکھا ہواہے انہوںنے کہاکہ پولیس سٹرکوں پر گشت کرسکتی ہے مگر دکانوں کے عقب کی نگرانی نہیں کرسکتی ہے

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload