متاثرین گوجال کی احتجاجی ریلی پرپولیس کاتشدد، متعدد گرفتار
گلگت(کے ٹو)متاثرین گوجال کی احتجاجی ریلی پر پولیس نے ڈنڈوں کی برسات کر دی،2 مظاہرین گرفتار کر لئے
گئے۔ سانحہ عطا آباد کے نتیجے میں متاثرہ گوجال کے درجنوں افراد نے چیف سیکرٹری آفس سے احتجاجی ریلی نکالی جسے پولیس نے اتحاد چوک پر روکا اور شرکائے ریلی پر لاٹھی چارج کیا اور اتحاد چوک کے تین اطراف میں مظاہرین پرتشدد کرتے رہے اس سے قبل متاثرین گوجال سیکرٹری داخلہ سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ تک ان کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور ملاقات نہ ہونے پر سول سیکرٹریٹ سے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جب ہسپتال چوک پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو روکا اور مظاہرین کو راستہ تبدیل کرنے کیلئے کہا جس پر مظاہرین نے راستہ تبدیل کیا اور سیکرٹری داخلہ سمیت مقامی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگاتے رہے ہسپتال روڈ اور جماعت خانہ بازار سے گزر کر پریس کلب کی جانب جارہے تھے کہ پولیس نے اتحاد چوک پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ڈنڈے برسائے جس کے باعث تین مظاہرین کو چوٹیں لگیں اور اتحاد چوک پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر ہونے والے تشدد کے مناظر شہری دیکھتے رہے ۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے مظاہرین منتشر ہو گئے جبکہ پولیس نے دو مظاہرین کو گرفتار کر کے تھانہ سٹی میں بند کر دیا۔مظاہرین تحصیل گوجال کو آفت زدہ قرار دینے اور گوجال کیلئے خوراک اور ادویات ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچانے کا مطالبہ کررہے تھے۔بالائی ہنزہ گوجال کو آفت زدہ علاقہ قرار نہ دیا گیا اور وہاں پر موجود خوفناک غذائی بحران جو اب ایک قحط کی صورت اختیار کرچکا ہے پر قابوپانے کیلئے آنے والے چند روز کے اندر عملی اقدامات نہ کئے گئے توگوجال کے عوام ٹولیوں کی شکل میں پاک چین سرحد پر جا کر خود سوزی کریں گے یہ گوجال کے عوام کا متفقہ فیصلہ ہے کیونکہ بھوک اور افلاس کے باعث روز روز مرنے سے ایک ہی دن مرنا بہتر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار گوجال سے تعلق رکھنے والے الواعظ محمد اسلم کی قیادت میں ایک بیس رکنی وفد نے کے پی این کے دفتر میں بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوجال کے عوام جھیل کے پانی میں ڈوب رہے ہیں اور حکومت ہمارے ساتھ ایک کھیل کھیل رہی ہے اور جھیل کے پانی کے اخراج کیلئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کررہی ہے۔ اس وقت گوجال میں غذائی بحران خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے ،آٹا اور دیگر ضروریات زندگی ناپید ہو چکے ہیں جبکہ چین سے درآمد کی گئی اشیاءخوردونوش اور دیگر ضروری اشیاءمہنگی ہونے کی وجہ سے لوگ نہیں خرید سکتے ہیں جبکہ گلگت سے بھی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور حکومت ہماری شرافت کا انتہائی ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ہماری تکلیف کا حکومت کو کوئی احساس نہیںہے۔ الواعظ محمد اسلم،متاثرین گوجال رابطہ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علی قربان ،روز دار اللہ ، ریحان شاہ ودیگر نے بتایا کہ جمعہ کے روز اپنے تحفظات سے آگاہ کیلئے جب وہ ہوم سیکرٹری کے دفتر ان سے ملاقات کے لئے پہنچے تو پہلے انہیں بتایا گیا کہ ہوم سیکرٹری نلتر گئے ہیں بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ ہوم سیکرٹری ان سے ملنا نہیں چاہتے ہیں جس پر ہم نے پرامن احتجاج کیا تو پولیس نے درندوں کی طرح ہم پر لاٹھی چارج کیا اور ایک شخص کو زخمی اور تین افراد کو گرفتار بھی کیا اور تھانے میں بھی پولیس نے انتہائی ہتک آمیز سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ چلاس جیسی صورتحال گلگت میں بھی پیدا کرنا چاہتی ہے لہٰذا حکومت اس نااہل انتظامیہ کو فوری طور پر گلگت بلتستان سے تبدیل کرے۔الواعظ محمد اسلم ودیگر نے بتایا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے وزیر بیگ کو ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچایا لیکن وزیر بیگ سپیکر بن کر عوام کے بجائے حکومت کی آواز بنے بیٹھے ہیں اور علاقے کی صورتحال کے متعلق میڈیا میں غلط بیانات دے رہے ہیں
