| ہنزہ(کے ٹو)ہنزہ کا قدیم گاﺅں عطا آباد زمین بوس ہو گیا 3 درجن سے زائد زہائشی مکانات زمین کے اندر دھنس گئے ملبے تلے دب کر 10 افراد جاں بحق ہو گئے 7 کی لاشیں نکال لی گئیں 3 زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے گاﺅں اور اس سے ملحقہ پہاڑ کا ملبہ گرنے سے دریائے ہنزہ کا بہاﺅ مکمل طور پر پر رک گیا جس کے نتیجے میں سرٹ کے مقام پر دریا تیزی سے ایک بڑی جھیل کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے |
| جس سے شاہراہ قراقرم کا ایک بڑا حصہ خطرے کی زد میں آ گیا ہے جس کی وجہ سے ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ نے پورے ہنزہ میں ایمرجنسی نافذ کر کے شاہراہ اور کئی مکان اور مویشی خانے منہدم ہو گئے تھے پیر کے روز دوپہر کو تقریباً 12 بجے سے گاﺅں میں زمین تیزی سے سرکنے لگیجس کی اطلاع ملتے ہی ہنزہ سے بڑی تعداد میں رضا کار متاثرہ گاﺅں کی طرف روانہ ہو گئے مگر دوپہر کو تقریباً 2 بجے عطا آباد گاﺅں کے مکانات زمین کے اندر دھنسنے لگے اور اس گاﺅں اور اس سے ملحقہ پہاڑ کا ملبہ تیزی سے شاہراہ قراقرم سے متصل دریا میں گرنے لگا جس کے نتیجے میں دریائے ہنزہ کا بہاﺅ مکمل طور پر رک گیا |
ادھر صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ نے پورے ہنزہ میں ہنگامی حالت نافذ کر کے شاہراہ قراقرم ہنزہ سوست سیکشن کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا جبکہ نشیبی علاقوں اور دریا کے کنارے آباد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ۔ گاﺅں کے زمین بوس ہونے اور ملحقہ پہاڑ کے پھٹنے کے نتیجے میں گردوغبار حد نظر تک پھیل گیاقراقرم ہنزہ سوست سیکشن کو ہر قسم کی ٹریفک کو غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کر دیا ہے 110 گھرانوں اور 1200نفوس پر مشتمل سرٹ کے علاقے میں انتہائی اونچائی پر واقع عطا آباد گاﺅں میں تین سال قبل دراڑیں پڑ گئی تھیں جس کی وجہ سے کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی تا ہم ہنزہ پولیس اور مقامی رضا کاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پیر کی شام تک تباہ شدہ گاﺅں عطا آباد سے 7 لاشوں اور 5 زخمیوں کو علی آباد ہسپتال پہنچا دیا ہلاک شدگان میں وسیم عمر14سال، ارم عمر5سال ،ارسلان عمر7 سال ، سلیمانی عمر27 سال ، شہناز بیگم عمر22 سال ،عزت بیگم عمر58 سال اور اینراد علی عمر2 سال شامل ہیں جبکہ عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں کے مطابق کم از کم 3 افراد کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اس ناگہانی آفت کے باعث پورے ہنزہ میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان کے ڈی جی عثمان یونس (ہوم سیکرٹری) نے بتایا کہ امدادی سامان سے لدے 3 ٹرک روانہ کر دیئے گئے ہیں جبکہ دریا کا بہاﺅ جاری رکھنے کیلئے چینی انجینئرز اور مزدوروں کی مدد طلب کر لی گئی ہے انہوں نے کہا کہ منگل کو متاثرہ گاﺅں میں ایک ریسکیوآپریشن کیا جائے گا
