گلگت (کے ٹو) بالائی ہنزہ کے گاﺅں عطا آباد میںگزشتہ روز ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے جاں بحق ہونے والے13افراد کی تدفین کردی گئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے15افراد کے زندہ بچنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں گلگت بلتستان انتظامیہ اورنیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے متاثرہ گاﺅں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کردی ہیں منگل کونیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے متاثرہ گاﺅں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کردی ہیں منگل کو نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) فاروق احمد نے دیگر ماہرین کے ہمراہ متاثرہ گاﺅں کادورہ کیا اورلینڈ سلائیڈنگ سے ہونےوالے نقصانات کاجائزہ لیا سرکاری اہلکاروں اورمقامی رضا کاروں کی بڑی تعداد متاثرہ مقام پرامدادی کارروائیوں میں مصرف ہے جبکہ15لاپتہ افراد کی تلاش کا کام منگل کو بھی جاری رہا عطا آباد میں ہونےوالی لینڈ سلائیڈنگ سے دریائے ہنزہ کا پانی مکمل طورپر رک گیا ہے جس سے پانی جھیل کی شکل اختیارکرگیا ہے اورپانی شاہراہ قراقرم تک پھیل گیا ہے جس کے باعث شاہراہ قراقرم ہنزہ سوست سیکشن پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے دوسری جانب پاکستان آرمی اورچائینز انجنیئر نے دریائے ہنزہ کی روانی کے لئے لینڈ سلائیڈنگ کے مقام کاسروے شروع کردیا ہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے متاثرہ گاﺅں کے رہائشیوںکو متبادل مقام پرآباد کرنے کے منصوبے پرفوری کام شروع کرنے کیلئے گلگت بلتستان انتظامیہ کوہدایت کی ہے گلگت بلتستان انتظامیہ نے متاثرین کیلئے تین ٹرکوںپرمشتمل امدادی سامان متاثرین تک پہنچا دیا ہے اورمتاثرین کیلئے کل مزید امدادی سامان روانہ کیا جارہاہے

keep it up
thanks
to uplkoad