کراچی(کے ٹو) 77دن قبل گلگت بلتستان سے شروع کی گئی امن واک اتوار کے روز کراچی میں مزار قائد
پرختم ہوگئی واک کے شرکاءوامن کے سفیر اعجاز واصغر علی رومی جب پیدل کراچی پہنچے تو ہزاروں گلگت بلتستان سمیت دیگر علاقوں کے لوگوں نے ان کاپرتپاک استقبال کیا اورہارپہنائے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں سہراب گوٹھ سے دونوں امن کے سفیروں کوسینکڑوں گاڑیوں اورموٹرسائیکلوں کے جلوس میںمزار قائد لایاگیا توپورے شہر میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے شرکاءمزار قائد پہنچے توسندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر شہلارضا، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر وقار مہدی، راشد ربانی اوردیگراہم رہنماﺅں نے ان کافقید المثال استقبال کیا اورانہیں ہار پہنائے سندھ کی ٹوپی واجرک پہنچائی شرکاءامن واک نے ڈپٹی سپیکر اوردیگر رہنماﺅں کے ہمراہ مزار قائد پرحاضری دی اورپھولوں کی چادریںچڑھائیں ادھر مزار پرحاضری دینے کے بعد میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی ڈاکٹر شہلا رضا، وقار مہدی اورراشد ربانی نے کہاکہ گلگت بلتستان سے امن کاپیغام لے کرآنے والے دونوں نوجوانوں نے ثابت کردیاکہ پاکستان امن وآشتی کاگہوارہ ہے اورلوگ امن پسند ہیں پیدل چل کر کراچی پہنچنے والے اعجاز رومی واصغرعلی رومی نے کہاکہ امن واک کامقصد دنیا کویہ پیغام دیناتھاکہ ہم امن پسند اورمہذب شہری ہیں اوروہ شدت پسندی وانتہاپسندی ودہشت گردی سے سخت نفرت کرتے ہیں گلگت بلتستان کے لوگ توتھے ہی امن پسند اورملنسار مگرواک کے ذریعے دیگر اقوام کوبھی پیغام امن پہنچایایہ باتیںانہوںنے مزار قائد پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم نے ملک کے مختلف حصوں کادورہ کیا اورہرجگہ سے ہمیں عزت اورحوصلہ ملا اورہماری واک کوخوب پذیرائی ملی جس پر ہم پوری پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں انہوںنے کہاکہ امن مشن کوکامیاب بنانے پر ہم ملک کی چاروں صوبائی حکومتوں سمیت گلگت بلتستان کی حکومت اورپوری قوم کا شکریہ اداکرتے ہیں

very nice
بہت خوب جناب اگر اسی جزبے سے ملک کی خدمت بھی کریں تو کیا ہی بات ہوگی