اسلام آباد (کے ٹو) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں، پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان سمیت گلگت بلتستان اور قبائلی علاقہ جات کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے پیر کے روز یہاں ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان کو وفاق نے صوبائی حیثیت سے خود مختاری دی ہے اب وہ صوبائی حیثیت سے دوسرے صوبوں کی طرح فرائض اور امور انجام دے گا اس لئے ہم اسے آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں شامل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقہ جات کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے وہ ہمیں ہمیشہ اس حوالے سے شکوہ کرتے رہتے ہیں آئندہ ایوارڈ میں ان کی شمولیت کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیرخزانہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے تاریخی کامیابی ہے جس سے صوبوں کو حقیقی معنوں میں مالیاتی خودمختاری کی طرف اہم قدم ہے۔ وفاقی جمہوری حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کو کامیاب بنانے کیلئے صرِف قابل تقسیم محاصل ہیں سے وفاق کے حصے میں سے 217 ارب روپے کی قربانی دی ہے جبکہ سرحد کو ہائیڈل منافع کا حصہ، بلوچستان کو گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کے بقایا جات، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات میں سندھ کو ضلع ٹیکس کے حوالے سے 6 ارب روپے کی ادائیگی الگ سے وفاق کرے گاشوکت ترین نے کہا کہ جو کام سالہا سال تک نہ ہوسکا وہ سب کی فراخدلی ، جمہوری طریقے اور بحث ومباحثے سے حل کر لیا گیا اور یہ ستمبر تا دسمبر کی ریکارڈ مدت میں خوش اسلوبی سے طے کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اب صوبوں کو یکم جولائی 2010ءسے اضافی وسائل ملنا شروع ہو جائیںگے اور اب یہ صوبوں کے اوپر ہے کہ وہ عوام کی حالت کو ٹھیک کریں اور تعلیم ، صحت، غربت اور انفراسٹرکچر پر بھرپور توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم نے ہمیں فری ہینڈ دیا ہم ان کے شکر گزار ہیں اس کے علاوہ چاروں صوبوں خصوصاً پنجاب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں عوام اور میڈیا کی دعائیں اور نیک خواہشیات کے بھی ہم مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب این ایف سی کا پہلا اجلاس ہوا تو ہم نے ایک بات بڑی شدت سے محسوس کی کہ وفاق اور صوبوں اور صوبوں کے مابین بہت زیادہ بد اعتمادی موجود ہے جس کو دور کرنا ضروری تھا۔ سرحد نے مسائل حل نہ ہونے پر این ایف سی کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی جبکہ بلوچستان اور سندھ نے بھی اپنے اپنے مسائل حل نہ ہونے پر یہی موقف اختیار کیا تھا۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے این ایف سی سے باہر صوبوں کے دیرینہ مسائل کو بھی حل کرنے کا فیصلہ کیا اور وفاقی حکومت نے تمام آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے سرحد کو ہائیڈل بجلی کے خالص منافع کی مد میں 110 ارب روپے، بلوچستان کو گیس ڈویلپمنٹ سرچارج میں 120 ارب روپے اور سندھ کو ضلعی ٹیکس کی مد میں 6 ارب روپے اپنی جیب سے ادا کرنے کی گارنٹی دی۔ ان تمام اقدامات سے چھوٹے صوبوں کا اعتماد بحال ہوا جبکہ صوبوں کو خدمات پر جی ایس ٹی واپس کر کے آئینی تقاضا بھی پورا کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی صوبہ سرحدکو بھی وفاق نے یہ بھی ضمانت دی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اٹھنے والے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔ ان تمام اقدامات اور دیرینہ مسائل کے حل ہونے سے صوبوں میں اور وفاق کے مابین کے اعتماد بحال ہوا ہے اور وسائل کی تقسیم کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس وفاقی حکومت نے اس سوچ کہ عوام صوبوں میں بستے ہیں اور صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا کے تحت زیادہ سے زیادہ وسائل صوبوں کو منتقل کرنے کا انقلابی فیصلہ کیا اور جمہوری خودمختاری کی تو باتیں ہو رہی ہیں ہم نے اس سے بڑھ کر صوبوں کو مالیاتی خودمختاری سونپ دی اور یہ ایک پالیسی میں مکمل تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ تمام صوبوں نے بلوچستان کو ایک خصوصی کیس کے طور پر لیا اور ان کا حصہ قابل تقسیم محاصل میں دوگنا کر دیا گیا۔ پنجاب نے وسائل کی تقسیم کے حوالے سے آبادی سے ہٹ کر کثیر الجہتی فارمولے پر اتفاق کیا۔ غربت ، پسماندگی، رقبہ، آبادی اور ریونیو جنریشن کی بنیاد پر صوبوں میں وسائل کی تقسیم پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس صوبوں کو منتقل ہونے سے پہلے سال کے دوران 31 ارب روپے کا فائدہ صوبوں کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جو اضافی وسائل صوبوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کو مختلف اقدامات سے پورا کیا جائے گا۔ ٹیکسوں کی شرح بالحاظ جی ڈی پی 8.9 فیصد سے بڑھا کر 13.9 فیصد کی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے اخراجات 14.1 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد پر لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم محصولات کی شرح بالحاظ جی ڈی پی نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو بھی اپنے ٹیکسوں کا نظام بہتر بنانا پڑے گا اور رئیل اسٹیٹ پر کیپیٹل گینز ٹیکس اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے چار پانچ ادارے پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل، بجلی فراہم کرنے والا کمپنیاں اور بعض دیگر اداروں کی خراب کارکردگی سے اڑھائی سو ارب روپے سے زائد کا بوجھ حکومت برداشت کر رہی ہے ہمیں ان اداروں کو فروخت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹیکسوں کے نظام میں بھی کمزوریاں ہیں اور سالانہ ساڑھے تین سو سے پانچ سو ارب روپے ٹیکس چوری ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بعض وزارتیں اور ادارے ختم کرنا ہوں گے جن کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے ادارے اور وزارتیں جو وفاق اور صوبوں میں ایک جیسا کام کر رہے ہیں ان کو بھی صوبوں کو منتقل کرنا ہوگا اس طرح ہم بہت سے اخراجات بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور ایک راستے کا تعین کرنا ہوگا اور اس میں پوری حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں محصولات بڑھانا ہوں گے ، اخراجات کم کرنا ہوں گے اور ٹیکس چوری کو روکنا ہوگا۔ ہمارے پاس اب آپشنز نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو جو وعدے ہم نے کیے ہیں وہ پورے کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس سیلز ٹیکس کی جگہ لے گا اور اس سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبوں کو نئے مالی سال سے قبل اپنی استعداد بڑھانا ہوگی کیونکہ نئے سال سے انہیں اضافی پیسے ملنا شروع ہو جائیں گے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ بہت جلد کفایت شعاری سے متعلق سفارشات کی منظوری دیدی گئی جبکہ گورننس سے متعلق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اس ماہ کے آخر تک پیش کی جائیں گی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پے اینڈ پنشن کمیشن کی سفارشات آئندہ ماہ انہیں پیش کر دی جائیں گی
