Dec 23

اسلام آباد(کے ٹو) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا گورنر مقامی ہوگا انہوں نے یہ بات گذشتہ رات ایوان صدرمیں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی صد ر سے ملاقات کے بعد کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے سید مہدی شاہ نے کہاکہ گلگت بلتستان کا گورنر کون ہوگا یہ ابھی فائنل نہیں ہوا ہے تاہم صدر نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ گلگت بلتستان کا گورنر مقامی ہوگا۔ سید مہدی شاہ نے انہیں وزیراعلیٰ بنانے پر صدر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزراءکے ناموں کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ گلگت بلتستان کے قائم مقام گورنر قمرزمان کائرہ سے صلاح مشورے کریں گے ابھی ہم نے کسی کو وزیر بنانے کا فیصلہ نہیں کیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جمعیت علما اسلام سے کہا ہے کہ وہ غیرمشروط طور پر ہمارا ساتھ دیں گے تاہم وہ دو وزارتوں کامطالبہ کررہے ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ جے یو آئی کو ایک سے زیادہ وزارت نہیں دیں گے ۔سید مہدی شاہ کے مطابق صدر نے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر بہت خوش ہیں صدر نے ہمیں سادگی اور کفایت شعاری اپنانے اور عوام کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ادھر جمعیت علماءاسلام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے درمیان گلگت بلتستان نہیں شراکت اقتدار کا فارمولا طے پاگیا ہے صدر زرداری کے ساتھ مولانا فضل الرحمن ملاقات میں گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے علاوہ دیگر امور پر بات چیت ہوئی جے یو آئی گلگت بلتستان کے ایک وفد جس کی قیادت عطا اللہ شہاب کررہے تھے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی گلگت بلتستان میں دوسری بڑی جماعت بن چکی ہے جس پر پارٹی قیادت اور گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں جسے جے یو آئی کو محنت کا صلہ مل چکا ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی سے ابتدائی مرحل میں جے یو آئی کو کابینہ میں دو وزارتیں ملیں گی اور انتظامی معاملات میں بھی حکمران جماعت مشاورت میں ہمیں شامل کرے گی گلگت بلتستان میں نئے سیٹ اپ کے بعد بننے والی حکومت کو کامیاب بنانے کیلئے کردارادا کریں گے جے یو آئی علاقے سے پائیدار امن کے قیام لوگو ں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی جے یو آئی گلگت بلتستان کے وفد میں جے یو آئی گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عطاءاللہ شہاب اراکین قانون سااسمبلی رحمت خالق ¾ گلبر خان ¾ قاری امتیاز میر کے علاوہ جے یو آئی کے رہنما منہاج الدین ¾مولانا مجاہد نے کے پی این کو بتایا کہ جے یو آئی گلگت بلتستان میں اپنی محنت اور عوام کے تعاون سے دوسری بڑی جماعت بن چکی ہے مرکزی قیادت کی رہنمائی میں آئندہ کام کریں گے جے یو آئی اپنی اس امانت کو ذمہ داری کے ساتھ نبھائے گی جے یو آئی ایک جمہوری جماعت ہے فرقہ وارانہ پارٹی نہیں ہم اپنے مطالبات مسلکی بنیادوں سے ہٹ کرجمہوری اندازمیں پیش کریں گے ہم نے حکومت سازی کے دوران فرقہ واریت سے ہٹ کر وزیراعلیٰ اور سپیکر کے عہدے کے لیے حمایت کی ہے مرکز کی طرح گلگت بلتستان میں بھی حکومت سے بھرپورتعاون جاری رکھیں گے اس وقت ملک کو بہت سے مسائل درپیش ہیں اورمزید سیاسی محاذ آرائی کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے ہم نے جمہوری انداز میں مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں پارٹی حجم کے مطابق وزارتیں اور دیگر عہدوں میں حصہ دیا جائے وزارتوں کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی دوسری بڑی جماعت کے حساب سے نمائندگی دی جائے گلگت بلتستان کودرپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں تمام اختلافات سے ہٹ کر کام کریں انہوں نے کہاکہ گورنر کیلئے اس شخصیت کی حمایت کریں گے جو پیپلزپارٹی تجویز کریگی یہ پیپلزپارٹی کا حق ہے لیکن گورنر ایک ایسا شخص ہونا چاہیے جو گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو استعمال کرکے دیگر اقوام کے برابر لانے کی صلاحیت رکھتا ہو وفد نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کو گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال حکومت سازی کے معاملات اوردیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی کابینہ کے علاوہ گلگت بلتستان کونسل میں بھی نمائندگی زیر بحث آئی مولانا فضل الرحمن نے یقین دلایا کہ گلگت بلتستان کے تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے کام کریں گے وفاقی حکومت کی جانب سے جو پیکیج ملا ہے اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay

Leave a Reply

preload preload preload