گلگت(کے ٹو)عدالت عظمیٰ(سپریم اپیلٹ کورٹ)گلگت بلتستان نے پاکستان میں نافذ 14 اہم قوانین کو گلگت بلتستان میں لاگو کرنے کا حکم صادر کر دیا آل گلگت بلتستان ورکرز یونین کی جانب سے دائر کردہ آئینی پٹیشن کی سماعت مکمل ہو جانے کے بعد چیف جسٹس محمد نواز عباسی ، جسٹس سید جعفر شاہ اور جسٹس محمد یعقوب پر مشتمل سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے فل بنچ نے یہ اہم اور تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس کے تحت وفاق پاکستان کو حکم دیا گیا ہے کہ جو اہم قوانین جن میں انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ ،ورکرزویلفیئر فنڈز آرڈیننس ، ورک مین کمبنیشن ایکٹ ، پے منٹ آف ویجز ایکٹ، فیکٹریز ایکٹ فائز ایکٹ ،پرویشنل ایمپلائز، سوشل سکیورٹی ایمپلائز، اولڈ ایج بنیفٹ ایکٹ، ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ ورکرز ویلفیئر آرڈیننس ، کمپنیز پروفٹ ایکٹ ، ایمپلائز کاسٹ آف ریلیف ایکٹ، روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس ، ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس ، ورکرز آرڈیننس 1969ء، ورکرز ویلیفئرفنڈز آرڈیننس اور فنانس ایکٹ کو فوری طور گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے اپنے حکم نامے میں عدالت عظمیٰ (سپریم ایپلٹ کورٹ)گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور لیبر کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے کے لئے ان قوانین کا گلگت بلتستان میں نافذ کیا جانا انتہائی ناگزیر ہے عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان بھر کی طرح گلگت بلتستان کے محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے عدالت عظمیٰ میں اس اہم اور تاریخی پٹیشن میں عدالت کی معاونت کیلئے عدالت سے خصوصی طور پر سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ عابد حسن منٹو کو طلب کیا گیاتھا جنہوں نے عدالت عالیہ میں سیر حاصل بحث کی تھی دیگر وکلاءمیں محمد عیسیٰ ایڈووکیٹ صدر سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن منظور احمد ایڈووکیٹ صدر چیف کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت کی معاونت کی جبکہ ورکرز یونین کی جانب سے احسان علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروائے تھے

Its a good act in favour of the people of Gilgit Baltistan,.,.,.we must appreciate this,